رسائی کے لنکس

افغان حکمت عملی کارگرد ثابت ہورہی ہے: امریکہ

  • میریڈتھ بوئل

افغان حکمت عملی کارگرد ثابت ہورہی ہے: امریکہ

افغان حکمت عملی کارگرد ثابت ہورہی ہے: امریکہ

امریکی محکمۂ دفاع کے اعلیٰ عہدے داروں کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے ایک سال پہلے افغانستان کے لیئے جس نئی حکمت عملی کا اعلان کیا تھا، وہ کار گر ہو رہی ہے، لیکن فوج اور انٹیلی جنس کے بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لڑائی ختم ہونےمیں ابھی وقت لگے گا۔ یہ تبصرے ایسے وقت کیئے گئے ہیں جب وہائٹ ہاؤس سال کے آخر میں انتظامیہ کی افغان پالیسی کا جائزہ پیش کرنے کی تیاری کر رہا ہے ۔

افغانستان میں نو برس سے زیادہ عرصے کی جنگ اور مزید 30,000 امریکی فوجی بھیجے جانے کے بعد، دفاع کے امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے طالبان اور القاعدہ کے خلاف جنگ میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ حال ہی میں امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے کابل میں کہا کہ افغانستان کے لیئے نیا منصوبہ کامیاب رہا ہے کیوں کہ طالبان باغیوں کے کنٹرول میں اب جو علاقہ ہے وہ ایک سال پہلے کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اس پکے یقین کے ساتھ واپس جاؤں گا کہ ہماری حکمت عملی کامیاب ہو رہی ہے اور صدر اوباما نے گذشتہ سال جو بنیادی مقاصد بیان کیئے تھے، ہم انہیں حاصل کر سکیں گے۔

ان مقاصد میں 2014 کے آخر تک سیکورٹی کی ذمہ داریاں افغان فورسز کے حوالے کرنا، اور افغان حکومت کا پورے ملک کی ذمہ داری سنبھالنا شامل ہے ۔

مسٹر اوباما کے مقاصد میں القاعدہ کو محفوظ پناہ گاہ سے محروم کرنا اور طالبان کی افغان حکومت کا تختہ الٹنے کی صلاحیت کو ختم کرنا بھی شامل ہے ۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسر بروس ہوف مین کہتے ہیں اگرچہ افغانستان کی سرحد کے ساتھ پاکستانی کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں میں بھاری اضافے کی وجہ سے القاعدہ پر بہت زیادہ دباؤ پڑا ہے، پھر بھی یہ دہشت گرد گروپ مغربی ملکوں کے خلاف تابڑ توڑ حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی حکمت عملی یہ ہے کہ ہمیں تھکا دیا جائے، ہمیں داخلی سیکورٹی پر زیادہ پیسہ خرچ کرنے پر مجبور کیا جائے، اور جہاں تک ممکن ہو، ایسے حالات پیدا کیئے جائیں کہ ہم دوسرے ملکوں میں زیادہ سے زیادہ عرصے تک فوجیں رکھی۔

افغانستا ن میں نیٹو اور امریکی فوجوں کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیریس کہتے ہیں کہ بہت سے اہم علاقوں میں اتحادی اور افغان فورسز نے طالبان کا زور توڑ دیا ہے لیکن کچھ علاقے اب بھی باغیوں کے کنٹرول میں ہیں اور ان علاقوں میں وہ آزادی سے نقل و حرکت کر سکتے ہیں۔ ان علاقوں میں ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

فوجوں میں اضافے کے زمانے میں، فوج کی بیشتر توجہ جنوبی افغانستان میں قندھار اور ہلمند صوبوں پر رہی ہے جو روایتی طور پر طالبان باغیوں کے مضبوط ٹھکانے ہیں۔ان علاقوں میں شورش کو دبانے میں امریکی فوجوں کو کامیابی ہوئی ہے، لیکن تشویش یہ ہے کہ طالبان اب شمالی افغانستان کے ایسے علاقوں میں جو کبھی محفوظ خیال کیئے جاتے تھے، اپنی موجودگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔ محمد طاہر ریڈیو فری یورپ کے تجزیہ کار ہیں جنھوں نے کافی عرصہ افغانستان میں گذارا ہے ۔ شمالی قندوز صوبے کے ایک حالیہ دورے میں، انہیں طالبان کی موجودگی کے نمایاں اثرات نظر آئے۔ وہ کہتے ہیں کی سیکورٹی بہت اہم ہے ۔ اگر سیکورٹی نہیں ہوگی تو دوسرے لوگ اس خلا کو پُر کریں گے۔ یہ دوسرے لوگ طالبان ہیں، غیر ملکی یا مقامی عسکریت پسند ہیں۔

امان اللہ صالح افغانستان کی نیشنل سیکورٹی ڈائریکٹریٹ کے سابق ڈائرکٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ طالبان کو شکست دینے کے لیئے ضروری ہے کہ سرحد پار پاکستان میں انہیں محفوظ پناہ گاہوں سے ملنے والی امداد منقطع کی جائے۔ صالح کہتے ہیں کہ اس سال امریکی فوجوں میں اضافے سے کچھ علاقہ محفوظ ضرور ہوا ہے لیکن بنیادی صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ پاکستان میں کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ ہم طالبان کی قیادت کو ہلاک کرنے یا انہیں مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ ہم نے القاعدہ کو شکست نہیں دی ہے۔

اسلام آباد میں سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے ایگزیکیوٹو ڈائرکٹر، امتیاز گل کہتے ہیں کہ اس بات کا تعین کرنے میں کہ افغانستان کی جنگ کے لیئے صدر اوباما کی حکمت عملی کارگر ہوگی یا نہیں، اور زیادہ وقت لگے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ جنرل پیٹریس نے اور افغان حکومت نے بعض جنگی چالوں اور تدبیروں کی کامیابی کی اطلاع دی ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ ان عارضی اقدامات اور جنگی فتوحات سے کوئی پائیدار اور پُر امن حل نکل آئے ۔ آپ کو یہ تعین کرنے کے لیئے کہ فوجوں میں اضافہ کامیاب ہوا ہے یا نہیں، ممکن ہے کہ مزید چند مہینے اس کے اثرات کو دیکھنا پڑے۔

جنگ کی حکمت عملی کی اگلی اہم ڈیڈ لائن جولائی 2011 ہے ۔ صدر اوباما نے کہا ہے کہ وہ اس تاریخ سے افغانستان سے امریکی فوجوں میں بتدریج کمی کرنے کا عمل شروع کرنا چاہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG