رسائی کے لنکس

افغانستان :تشدد کے مختلف واقعات میں چار غیر ملکی فوجیوں سمیت دس ہلاک


خودکش حملے کا نشانہ بننے والی بس

خودکش حملے کا نشانہ بننے والی بس

افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ ملک کے دو مختلف حصوں میں ہونے والے بم دھماکوں میں اس کے چار فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

نیٹو کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق تین فوجی مشرقی افغانستان میں اور ایک فوجی جنوبی علاقے میں سڑک میں نصب بموں کا نشانہ بنے۔

دریں اثنا بدھ کے روز ہی دو مختلف بم دھماکوں میں انٹیلی جنس کے چھ اہلکار ہلاک اور دیگر 31 افراد زخمی ہوگئے۔

حکام کے مطابق پہلا واقعہ دارالحکومت کابل میں اس وقت پیش آیا جب موٹر سائیکل پر سوار خودکش بمبار نے شہر کے جنوبی حصے میں سکیورٹی فورسز کی ایک بس کو نشانہ بنایا۔ اس خودکش حملے میں چار اہلکار ہلاک اور 29 زخمی ہوگئے۔

اس واقعے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد مشرقی صوبے کنڑ میں سڑک میں نصب ایک ریموٹ کنٹرول بم پھٹنے سے انٹیلی جنس کا ایک کرنل اور ان کا ڈرائیور ہلاک جب کہ دو محافظ زخمی ہوگئے۔

طالبان نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

صدر حامد کرزئی کی طرف سے ان دھماکوں کی مذمت کی گئی ہے اور صدارتی بیان میں ان واقعات کو ’’انسانیت اور اسلام کے خلاف کارروائی‘‘ قرار دیا گیا ہے۔

افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بھی ان دھماکوں کی مذمت اور اس میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق اتحادی افواج ان واقعات کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے افغان حکومت کی کوششوں میں معاونت کرتی رہیں گی۔

تشدد کے یہ تازہ واقعات ایک ایسے وقت ہوئے ہیں جب ایک روز قبل امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن نے افغانستان کے غیر اعلانیہ دورے کے دوران عسکریت پسندی کے خلاف ہونے والی کامیابوں کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ’کامیابیاں فی الحال غیر مستحکم‘ ہیں۔

XS
SM
MD
LG