رسائی کے لنکس

ہفتے کے روز مشرقی افغانستان میں چار فرانسیسی فوجی ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے جس کے بعد اس ماہ ملک میں ہلاک ہونے والے بین االاقوامی فوجیوں کی تعداد 13 ہو گئی ہے ۔ یہ فوجی اس وقت ہلاک ہوئے جب ایک طالبان خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا ۔

فرانسیسی حکومت نے کہا ہے کہ فوجیوں کا تعلق فرانس کے شہر لیون میں تعینات ایک رجمنٹ سے تھا۔

افغان عہدےد اروں نے کہا ہے کہ ایک عورت کے بھیس میں ایک طالبان خود کش بمبار پیدل چلتا ہوا ان کی طرف آیا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں چار فوجی ہلاک ہو گئے ۔

فرانسیسی حکومت نے کہا ہے کہ پانچ اور فوجی زخمی بھی ہوئے جن میں سے تین کی حالت نازک ہے ۔ طالبان نے ایک ای میل میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

حکومت کے ایک ترجمان کا کہناہے کہ ہفتے کے روز مشرقی صوبے کپیسا میں یہ حملہ فرانسیسی صدر فرانسو ہولانت کی جانب سے اس اعلان کے بعد ہوا ہے کہ وہ افغانستان سے نیٹو کے طے شدہ مجموعی انخلا سے بہت قبل ، اس سال کے آخر تک افغانستان سے اپنے 2000 جنگی فوجی واپس بلا لیں گے ۔

مسٹر اولانت نے ، جنہوں نے گزشتہ ماہ افغانستان کا دورہ کیا تھا، کہا اس انخلا کے بعد باقی رہ جانے والے فوجی تربیت اور لاجسٹکس میں افغانستان کو مدد فراہم کریں گے ۔
سٹرٹیجک تجزیے سے متعلق فرانسیسی ادارے کے سر براہ فرانسو گیرے نے کہا ہے کہ افغانستان نے فرانس کے جلد انخلا سے اس کی فورسز پر حملے کرنا آسان ہو گیا ہے ۔

انہوں نے ایک فرانسیسی ریڈیو کو بتایا کہ نیٹو کے دستے کا ایک کمزور حصہ ہونے کی وجہ سے فرانسیسی فوجی ایک آسان ہدف بن گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اب جب کہ فرانسیسی فوجی افغانستان سے واپس جا رہے ہیں ، ان پر مزید حملے ہو سکتے ہیں اور ان کے لیے یہ عرصہ بہت نازک ہو گیا ہے ۔

ہفتے کی صبح ، نیٹو نے کہا کہ مشرق میں ایک الگ حملے میں ایک اور فوجی ہلاک ہو گیا ۔ ا اس سال اب تک بین االاقوامی عملے کے 198 ارکان ہلاک ہو چکے ہیں ۔

دریں اثناء اس سے قبل افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ مشرقی علاقے میں ہونے والے بم دھماکے میں نیٹو کا ایک اہلکار ہلاک ہوگیا۔

یہ دونوں واقعات مشرقی افغانستان کے مختلف علاقوں میں پیش آئے۔

طالبان نے حالیہ مہینوں کے دوران اپنی پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ کردیا ہے جس میں غیر ملکی فوجیوں اور افغان اہلکاروں سمیت متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

فرانس کے تقریباً 3400 فوجی افغانستان میں تعینات ہیں اور اس نے 2014ء سے قبل یعنی رواں سال کے اواخر تک اپنے اہلکاروں کے انخلا کے منصوبے کا اعلان کررکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG