رسائی کے لنکس

افغانستان: بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف کارروائی کا عزم


فائل فوٹو

فائل فوٹو

صدر اشرف غنی نے وڈیو کانفرنس کے ذریعے ملک کے تمام سکیورٹی حکام سے بات کی اور انہیں ’’اس طرح کے واقعات روکنے کے لیے تعلیمی، اصلاحی اور تادیبی اقدامات‘‘ کرنے کی ہدایت کی۔

افغانستان کی حکومت نے کہا ہے کہ مقامی پولیس کمانڈروں کی مدد سے بچوں کے جنسی استحصال کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے گئے ہیں۔

کابل سے جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں ’بچہ بازی‘ کے نام سے بدنام ’’غیر اخلاقی، غیر انسانی اور غیر مذہبی‘‘ جنسی استحصال کی مذمت کی گئی ہے۔

اس ہفتے امریکی روزنامہ ’نیویارک ٹائمز‘ نے اپنی رپورٹ میں مقامی پولیس کمانڈروں اور امریکہ کے تربیت یافتہ مقامی افغان ملیشیا کے ہاتھوں وسیع پیمانے پر نو عمر لڑکوں سے زبردستی جنسی تعلق، اور دیگر جنسی جرائم کی تفصیلات بیان کی تھیں۔

اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ افغان اتحادیوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے کے لیے اس طرح کی سرگرمیوں میں کوئی مداخلت نہ کریں۔

اس رپورٹ میں عدالتی ریکارڈ اور امریکی فوجی افسروں کے انٹرویوز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکی فوجیوں کی طرف سے مداخلت کے کچھ واقعات میں ان کی سرزنش کی گئی۔

صدارتی بیان کے مطابق صدر اشرف غنی نے وڈیو کانفرنس کے ذریعے ملک کے تمام سکیورٹی حکام سے بات کی اور انہیں ’’اس طرح کے واقعات روکنے کے لیے تعلیمی، اصلاحی اور تادیبی اقدامات‘‘ کرنے کی ہدایت کی۔

بیان میں صدر غنی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’’افغانستان کے قوانین، ثقافت اور عوام کی مذہبی اقدار بچوں کے جنسی استحصال کو بہت سنگین جرم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھتی ہیں۔‘‘

بیان کے مطابق افغان حکومت نے خبردار کیا کہ ’’ایسے جرائم کا ارتکاب، خصوصاً مسلح افوج کی جانب سے ناقابل برداشت ہے اور حکومت اس قابل نفرت رجحان کی بیخ کنی کے لیے کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کرے گی۔‘‘

منگل کو شائع ہونے والی رپورٹ میں لگائے گئے الزامات کے جواب میں افغانستان میں نیٹو کے کمانڈر جنرل جان کیمبل نے ان دعوؤں کی تردید کی کہ امریکی فوجیوں کو نوعمر لڑکوں کے جنسی استحصال کی شکایات کو نظرانداز کرنے کا کہا گیا تھا۔

’’میری افغانستان میں کئی مرتبہ تعیناتی ہوئی اور مجھے مکمل یقین ہے کہ میدان جنگ میں کبھی بھی ایسی کوئی پالیسی موجود نہیں رہی اور میرے کمانڈر ہونے کے دور میں تو یقیناً ایسی کوئی پالیسی نہیں رہی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’جنسی استحصال کے کسی بھی شبہے کی اطلاع فوراً چین آف کمانڈ کو دی جاتی ہے قطع نظر اس کے کہ کون ملزم ہے اور کون متاثرین۔‘‘

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنرل کیمبل نے صدر غنی سے بھی اس مسئلے پر بات کی ہے اور ان سے وعدہ لیا ہے کہ افغان حکومت ایسے کسی بھی عمل کی تحقیقات کرنے اور مجرموں کو پکڑنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے گی۔

اس سال کے شروع میں بھی امریکہ کے محکمہ خارجہ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ بچوں کا جنسی استحصال کرنے والے بغیر سزا کے خوف کے یہ کام کرتے ہیں۔

انسانی سمگلنگ پر محکمہ خارجہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ’’قانون نافذ کرنے والے کچھ عہدیدار، وکلائے استغاثہ اور جج بچہ بازی کے مجرموں کو سزا سے بچانے کے لیے ان سے رشوت وصول کرتے ہیں یا ان کے ساتھ تعلقات کی بنا پر ان کو جانے دیتے ہیں۔‘‘

XS
SM
MD
LG