رسائی کے لنکس

افغان جنگ کے خاتمے کے امکانات کا ایک جائزہ

  • گیری تھامس

افغان جنگ کے خاتمے کے امکانات کا ایک جائزہ

افغان جنگ کے خاتمے کے امکانات کا ایک جائزہ

امریکی فوج کے جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے چار جولائی کو افغانستان میں امریکی اور اتحادی فوجوں کے نئے کمانڈر کا عہدہ سنبھالتے ہوئے اپنی تقریر میں فتح حاصل کرنے کا عہد کیا۔ لیکن افغانستان میں فتح کیا شکل اختیار کرے گی؟ اس سوال کا کوئی واضح جواب ممکن نہیں ہے۔

1992 میں سوویت فوجوں سے لڑنے والے مجاہدین نے ، جن میں سے کچھ آج کے طالبان میں شامل ہیں، صدر نجیب اللہ کی کمیونسٹ حکومت کا تختہ الٹ دیا اور کابل پر قبضہ کر لیا۔اسی طرح ، شمالی اتحاد نے 2001 میں طالبان کی حکومت کو شکست دے کر، صدر حامد کرزئی اور ان کی حکومت کے لیے راہ ہموار کر دی۔ لیکن بیشتر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ افغانستان کی موجودہ لڑائی کا خاتمہ اس انداز سے نہیں ہوگا بلکہ طالبان باغیوں کے کم از کم بعض دھڑوں کو اقتدار میں شریک کرنا ہوگا۔وہ کہتے ہیں کہ یہ عمل شروع ہو چکا ہے اور کرزئی حکومت بعض افغان طالبان عناصر کے ساتھ تصفیے کی کوشش کر رہی ہے۔

واشنگٹن میں یونائیٹڈ انسٹی ٹیوٹ آف پیس کے ڈینیل سرور کہتے ہیں کہ مصالحت کی ان کوششوں کے نتیجے میں ایسا افغانستان وجود میں آ سکتا ہے جو کسی حد تک موجودہ لبنان سے ملتا جلتا ہوگا۔’’اگر آپ مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں تو پھر آ پ کو یہ سوچنا ہوگا کہ حل کے لیے مذاکرات کی بنیاد کیا ہوگی۔ مذاکرات میں ایک ممکن راستہ یہ ہے کہ طالبان کوافغانستان کے کچھ حصوں میں مقامی نظم و نسق چلانے دیا جائے۔اس طرح آپ لبنان میں حزب ا للہ ٹائپ کے حل کی طرف پیش قدمی کر سکیں گے، یعنی جس طرح لبنان کے کچھ حصوں میں نظم و نسق حزب اللہ کے ہاتھوں میں ہے اسی طرح افغانستان کے بعض حصوں میں طالبان مقامی حکومت چلائیں گے۔‘‘

ڈیوڈ کِلکیولِن انسداد بغاوت کے ماہر ہیں اور عراق میں جنرل پیٹریاس اور سابق امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس کے مشیر رہ چکے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ لبنان میں حزب اللہ ایک سیاسی ادار ے اور دہشت گرد تنظیم کے طور پر کام کرتی ہے ۔

کِلکیولِن کہتے ہیں کہ توقع یہی ہے کہ افغانستان میں مذاکرات کے ذریعے تصفیہ ہو جائے گا۔’’مذاکرات میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ بغاوتوں کو ختم کرنے کی بیشتر کوششیں مذاکرات کے ذریعے ہی کامیاب ہوتی ہیں۔لیکن مذاکرات کرتے وقت آپ کی پوزیشن مضبوط ہونی چاہیئے۔ لیکن اس وقت ہماری پوزیشن ایسی نہیں ہے کہ طالبان مذاکرات میں ہماری طاقتور پوزیشن کو محسوس کریں اور وہ القاعدہ کی قیادت سے یا کوئٹہ کی شوریٰ سے اپنا رشتہ ناتا توڑ کر مذاکرات کے عمل اور افغان معاشرے میں دوبارہ شامل ہونے کو تیار ہو جائیں۔‘‘

صدر اوباما نے افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کی ابتدا کے لیے اگلے سال جولائی کا مہینہ مقرر کیا ہے، اگر وہاں کے حالات اس وقت اس کی اجازت دیں۔ امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اس وقت تک افغان فورسز، خاص طور سے فوج، کسی حد تک سکیورٹی کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار ہوگی۔ لیکن یوایس آرمی وار کالج کے لیری گُڈسن کہتے ہیں کہ واپسی کے عارضی ٹائم ٹیبل کے اعلان سے بھی، مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ہر کوئی یہ توقع کر رہا ہے کہ آپ کی واپسی شروع ہو جائے گی تو پھر مذاکرات میں آپ کی پوزیشن مضبوط نہیں رہتی۔

کرزئی حکومت اور طالبان کے درمیان سنجیدہ مذاکرات کی رپورٹوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اور طالبان کا کہنا ہے کہ جب تک غیر ملکی فوجیں افغانستان میں موجود ہیں، وہ مذاکرات نہیں کریں گے۔لیکن طالبان پہلے ہی ان مقامات میں مقامی انتظامیہ قائم کر رہے ہیں جہاں مرکزی حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے اور بین الاقوامی فورسز کی طرف سے کوئی خاص مزاحمت نہیں ہو رہی ہے۔ لیری گُڈسن کہتے ہیں کہ طالبان کی پہلی نسل کے برعکس جس نے افغانستان میں 1996 سے 2001 تک حکومت کی تھی، آج کے طالبان مستقبل کے بارے میں زیادہ دور تک سوچتے ہیں۔’’ابتدائی دور کے طالبان کا تصور کیجیئے۔ وہ دنیا کے بد ترین حاکم تھے۔ وہ نہ کچھ کر سکتے تھے، نہ کچھ کرنا چاہتے تھے، نہ انہیں کسی چیز کی پرواہ تھی۔ اب اچانک ایسے لوگ سامنے آئے ہیں جو کرزئی حکومت کی خراب کارکردگی کی وجہ سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

واشنگٹن کے سنٹر فار اے نیو امریکن سکیورٹی کے ڈیوڈ کِلکیولِن کہتے ہیں کہ جس طرح ایران لبنان پر اپنا اثر ڈالنے کے لیے حزب اللہ کی پشت پناہی کرتا ہے اس طرح پاکستان طالبان کی حمایت کرتا ہے تا کہ وہ افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھ سکے۔’’پاکستان میں عسکریت پسندوں کو خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا عادت سی بن گئی ہے۔یہ سلسلہ پاکستا ن میں ایک نسل سے جاری ہے۔یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے آپ راتوں رات ختم کر سکیں کیوں کہ ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ پرانی عادت ہے اور پھر یہ بھی ہے کہ یہ لوگ موجود ہیں اور آپ یہ نہیں کر سکتے ان سے اپنا سارا تعلق ختم کر دیں۔ اگر ایسا کیا گیا تو پھر یہ سرکشی پر تل جائیں گے۔ میرے خیال ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ افغان طالبان کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بھارت نے افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے بڑا زور لگایا ہے۔ کِلکیولِن کہتے ہیں کہ بھارت کی روز افزوں سرگرمیوں سے ہمسایہ ملک پاکستان کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے ۔

XS
SM
MD
LG