رسائی کے لنکس

افغان جنگ سے لوگ ’’تھک چکے ہیں‘‘

  • آندرے ڈیننسیرا

افغان جنگ سے لوگ ’’تھک چکے ہیں‘‘

افغان جنگ سے لوگ ’’تھک چکے ہیں‘‘

گزشتہ ہفتے فرانس نے اعلان کیا کہ وہ افغانستان سے اپنے لڑاکا فوجی معینہ مدت سے ایک سال پہلے ہی نکال رہا ہے کیوں کہ یہ جنگ فرانس کے لوگوں میں روز بروز غیر مقبول ہوتی جا رہی ہے۔

افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کو اب دس سال گزر چکے ہیں۔ 2001ء میں امریکہ نے ایک بین الاقوامی اتحاد کی قیادت کی جس نے طالبان کا تختہ الٹ دیا۔ آج کل افغانستان میں نیٹو کے 130,000 فوجیوں میں سے 90,000 امریکی ہیں۔

امریکہ اور نیٹو کا ہدف یہ ہے کہ 2014ء کے آخر تک، تمام جنگی کارروائیاں افغان سکیورٹی فورسز اور مسلح افواج کے حوالے کر دی جائیں۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ نیٹو کے بیشتر ملکوں میں عام لوگوں کا موڈ یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے سپاہی جتنی جلدی ممکن ہو، واپس آ جائیں۔
سابق وزیرِ دفاع ولیم کوہن کہتے ہیں کہ امریکہ کے لوگ اس جنگ سے تھک چکے ہیں جو اب دوسرے عشرے میں داخل ہو رہی ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ ’’امریکیوں کو اپنے ملک میں شدید کساد بازاری کا سامنا ہے۔ اگر معیشت بحال ہو بھی رہی ہے، تو روزگار کی حالت خراب ہے۔ لوگ جانتے ہیں کہ ہم نے ڈیڑھ کھرب ڈالر سے زیادہ رقم عراق اور افغانستان میں لگائی ہے، اور انہیں اس جنگ کا خاتمہ نظر نہیں آتا۔ یہ صحیح ہے کہ لوگ اس جنگ سے تھک چکے ہیں۔ ‘‘

قومی سلامتی کے سابق مشیر جنرل برینٹ اسکوکرافٹ اس رائے سے متفق ہیں۔ ان کے مطابق ’’افغانستان کی جنگ بہت طول پکڑ گئی ہے۔ ہلاک و زخمی ہونے والوں اور ڈالرز کی شکل میں یہ بہت مہنگی ثابت ہوئی ہے۔ ہاں، ہم تھک چکے ہیں۔‘‘

افغانستان میں 1,800 امریکی سپاہی اور میرین فوجی ہلاک اور 15,000 زخمی ہوئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سابق سفیر جان بولٹن اس رائے سے متفق ہیں کہ امریکی عوام اس جنگ سے تھک چکے ہیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ سیاسی حلقوں نے، جن میں ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنز دونوں شامل ہیں، افغانستان میں امریکہ کی موجودگی جاری رکھنے کا معقول جواز پیش نہیں کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’امریکی یہ دلیل بڑی آسانی سے قبول کر لیتے ہیں کہ اس قسم کی جنگ کی وجہ سے وہ زیادہ محفوظ ہو گئے ہیں، اور دنیا بھر میں ان کے دوست بھی زیادہ محفوظ ہو گئے ہیں۔ لیکن اگر انہیں کوئی یہ سب بتا نہیں رہا ہے، اگر جو قربانیاں دی جا رہی ہیں ان کی وضاحت نہیں کی جا رہی ہے اور نہ کوئی جواز پیش کیا جا رہا ہے، تو پھر کسی کو اس بات پر تعجب نہیں ہونا چاہیئے کہ لوگ اس جنگ سے دور بھاگ رہے ہیں۔ لہٰذا میں یہ کہتا ہوں کہ اصل قصور سیاسی قیادت کا ہے، رائے عامہ کا نہیں۔‘‘

سابق وزیرِ دفاع ولیم کوہن کی رائے اس معاملے میں یہ ہے کہ ہمارے منتخب عہدے داروں اور انتظامیہ کا یہ فرض ہے کہ وہ کانگریس کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے، یہ بتائیں کہ افغانستان میں ہمارے طویل مدت کے مفادات ہیں، ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ افغانستان ایسے دہشت گرد گروپوں کے لیے پناہ گاہ نہ بن جائے جو مستقبل میں نائن الیون جیسے حملے کر سکتے ہیں۔ لوگوں کو اس نکتے پر قائل کرنا ضروری ہے کہ افغانستان کی جنگ سے ہمارا طویل مدت کا مفاد وابستہ ہے۔

لیکن کوہن کہتے ہیں کہ یہ کام اکیلا امریکہ نہیں کر سکتا۔ افغانستان کے مسئلے کا علاقائی حل ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’امریکہ پر، اور اتحاد میں شامل ملکوں پر جو افغانستان میں ہیں، اپنی فوجیں کم کرنے اور افغانستان سے نکلنے کے لیے زبردست دباؤ ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر دنیا کو یہ فکر ہے کہ افغانستان میں حالات پھر ویسے ہی نہ ہو جائیں جیسے تاریخی طور پر رہے ہیں، تو امریکہ کے علاوہ اور بہت سے ملکوں کی ضرورت ہو گی جو اس ملک کی مدد کا عہد کریں۔ لیکن امریکہ یہ کام اتنے بڑے پیمانے پرنہیں کرے گا جتنا ہم ماضی میں کرتے رہے ہیں۔‘‘

کوہن نے جو آخری بات کہی ہے اس میں اس تقریر کی باز گشت سنائی دیتی ہے جو گزشتہ سال اس وقت کے وزیرِ دفاع، رابرٹ گیٹس نے آرمی کیڈٹس کے سامنے کی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ اگر مستقبل میں کوئی وزیرِ دفاع ،صدر کو ایک بڑی زمینی فوج ایشیا میں یا مشرق وسطیٰ یا افریقہ میں بھیجنے کا مشورہ دیتا ہے، تو اسے اپنے دماغ کا علاج کروانا چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG