رسائی کے لنکس

صدر اوباما نےافغانستان سے فوجوں کی تیز واپسی کا ٹائم ٹیبل دیا ہے: نیو یارک ٹائمز

  • یاسمین جمیل

صدر اوباما نےافغانستان سے فوجوں کی تیز واپسی کا ٹائم ٹیبل دیا ہے: نیو یارک ٹائمز

صدر اوباما نےافغانستان سے فوجوں کی تیز واپسی کا ٹائم ٹیبل دیا ہے: نیو یارک ٹائمز

اخبار لکھتا ہے کہ پندرہ ماہ میں افغانستان سے 33000فوجیوں کی وطن واپسی جب کہ 70000کو وہیں چھوڑ دینے سے جنگ پر اخراجات کم تو ہوں گے، لیکن اُن سے اِس ملک کے مرض کا کوئی خاص تدارک نہیں ہوسکے گا

اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘نے اپنے ایک اداریے میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کےتیز تر انخلا کے صدر اوباما کے حالیہ اعلان کو موضوع بناتے ہوئے لکھا ہے کہ صدر نے فوجوں کی اِس سے بھی تیز واپسی کا ٹائم ٹیبل دیا ہے جتنا کہ اُن کے جنرنلز نے تجویز کیا تھا۔

اخبار صدر کے اقدام کو سراہتے ہوئے لکھتا ہے کہ ایسے میں جب معاشی خسارے میں گرفتار امریکہ اپنی طویل ترین جنگ کی ایک بھاری قیمت ادا کر رہا ہے امن کے کسی بھی اقدام کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ لیکن، اخبار لکھتا ہے کہ پندرہ ماہ میں افغانستان سے 33000فوجیوں کی وطن واپسی جب کہ 70000کو وہیں چھوڑ دینے سے جنگ پر اخراجات کم تو ہوں گے، لیکن اُن سے اِس ملک کے بیمار مرض کا کوئی خاص تدارک نہیں ہوسکے گا۔

اخبار لکھتا ہے کہ اِس وقت ملک میں دور دور تک بے روزگاری دکھائی دیتی ہے اور امکان یہی ہے کہ 2012ء میں جب صدر دوسری مدت کے لیے انتخاب لڑیں گے، تو بھی اِس صورتِ حال میں کوئی خاص بہتری واقع نہیں ہوگی جو صدر کے لیے ایک انتہائی سخت چیلنج ہے۔

لیکن، اخبار لکھتا ہے کہ فوجوں کی واپسی کا شڈول برقرار رکھنے کی صورت میں وہ اپنے ووٹروں کا دل جیتنے کو یہ تو کہہ سکیں گے کہ وہ اپنے فوجیوں کوملک واپس لا رہے ہیں۔

اخبار اپنے مضمون کو سمیٹتے ہوئے لکھتا ہے کہ اب یہ جنگ اوباما کی جنگ ہے اور اِسے کامیابی سے سمیٹنا اب مکمل طور پر صدر اوباما کی ذمہ داری ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس طرح اِس جنگ کو سمیٹتے ہیں اور دیکھنا یہ بھی ہے کہ وہ کس طرح افغانستان سے جنگ ختم کرکے اُسے ایک ایسا ملک بننے میں مدد دیتے ہیں جو اُس کے اپنے لوگ چلائیں اور جو دہشت گردی کے پنپنے کی آماجگاہ نہ ہو۔

اخبار ’بوسٹن گلوب‘ نے اپنے ایک اداریے میں امریکہ میں مقیم فلپین کے ایک غیر قانونی ترکِ وطن اینٹونیو ورکز کے حوالے سے امریکہ کے امیگریشن قوانین میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ امریکہ کے کچھ مؤقر جریدوں سے وابستہ 30سالہ اینٹونیو کو 12سال کی عمر میں اُس کی والدہ نے امریکہ میں اپنے رشتہ داروں کے پاس رہنے کے لیے بھیجا تھا اور جب 16سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد اُس نے اپنا ڈرائیورز لائنسز بنوانے کی کوشش کی تو اُسے معلوم ہوا کہ اُس کا گرین کارڈ جعلی تھا۔ اُس وقت سے اب تک اُس نے جعلی کاغذات کے سہارے امریکہ میں رہائش جاری رکھی، کیونکہ اُسے جِس انداز سے پروان چڑھایا گیا تھا اُس انداز کی زندگی بسر کرنے کا واحد طریقہ یہی تھا۔

اخبار امیگریشن کی تلخ سیاست کے شکار ڈریم ایکٹ کو اِس مسئلے کا ایک حل قرار دیتا ہے جِس کے تحت اُن غیر قانونی تارکینِ وطن کو جو بچپن میں اُس ملک میں آئے اور اُنھوں نے مخصوص تعلیمی کامیابیاں حاصل کیں یا فوج میں خدمات انجام دیں اِس ملک کا شہری بننے کی اجازت مل جائے گی۔

اخبار لکھتا ہے کہ اینٹونیو کے پاس اگرچہ قانونی دستاویزات موجود نہیں ہیں لیکن اپنی زندگی کے 18سال یہاں گزارنے کے بعد وہ فی الواقع ایک امریکی ہے اور اب اُس کی غیر قانونی حیثیت کا پتہ چلنے کے بعد اُسے اُس ملک واپس بھیجنا جو اب اُن کے لیے غیر مانوس ملک ہے حقائق کو نظرانداز کرنے کی بات ہوگی۔

اخبار لکھتا ہے کہ امریکہ میں دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں ہوزے اینٹونیوز کو امریکہ کا شہری بنانے کا کوئی طریقہ ہونا چاہیئے، کیونکہ اُنھیں یک جنبشِ قلم ملک سے نکال دینا صرف ناقابلِ عمل ہی نہیں بلکہ غیر منصفانہ اقدام بھی ہے۔

اور، اخبار ’لاس انجلیس ٹائمز‘ نے اپنے ادارتی صفحے پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں خوراک سے متعلق سائنس کی تدریجی ترقی کو موضوع بناتے ہوئے لکھا ہے کہ اِس شعبے میں ہونے والی تحقیق ہماری زندگیوں اور ہمارے کھانے پینے کی عادات کے ساتھ ساتھ ہمارے گھریلو بجٹ، حتیٰ کہ، ملکی بجٹ اور ٹیکسوں پر بھی اثرانداز ہو رہے ہیں۔ اور اِس کی ایک تازہ مثال سیاست دانوں اور عوامی صحت کے عملبرداروں کی جانب سے سوڈے کے میٹھے مشروب پر مزید ٹیکس لگانے کی ملک گیر کوششیں ہیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ اِس مہم کی بنیاد وہ بیشمار سائنسی تحقیقات ہیں جو سوڈے کی میٹھے مشروبات کوموٹاپے کی ایک اہم وجہ ثابت کرچکی ہیں۔ لیکن، اخبار لکھتا ہے کہ یہ مہم ابھی جاری ہی تھی کہ ہارورڈ میڈیکل اسکول کے پبلک ہیلتھ شعبے کی ایک نئی تحقیق سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ خوراک میں آلو کا استعمال سوڈے کے میٹھے مشروبات کے استعمال سے بھی کہیں زیادہ وزن بڑھاتا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ ممکن ہے کہ اب مشروبات کے ساتھ ساتھ آلو کی مصنوعات پر بھی ٹیکس لگانے کی مہم شروع ہو جائے۔

اخبار ظاہر کرتا ہے کہ خوراک اور صحت کے حوالے سے ہماری ترجیحات اور صحتِ عامہ کے علمبرداروں کی مہموں کا یہ سلسلہ اُسی وقت تک جاری رہے گا جب تک خوراک کے بارے میں سائنس اپنے تمام تدریجی مراحل طے کرکے کوئی ٹھوس ترقی یافتہ شکل اختیار نہیں کر لیتی اور وہ وقت کب آئے گا اِس بارے میں اخبار کچھ نہیں لکھتا۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG