رسائی کے لنکس

یہ واقعہ مرکزی شہر فیروز کوہ کے ایک قریب ایک گاؤں میں 24 اکتوبر کو پیش آیا۔ خطیبی کے مطابق یہاں طالبان عسکریت پسندوں کا تسلط ہے جو "اپنے وحشیانہ قوانین نافذ کرتے ہیں۔

افغانستان میں ایک خاتون کو زنا کے الزام میں مشتبہ طور پر طالبان عسکریت پسندوں کے ایک گروہ نے سنگسار کر کے ہلاک کر دیا ہے۔

وسطی صوبے غور کے گورنر کے ترجمان عبدالحئی خطیبی بدھ کو بتایا کہ 22 سالہ رخسانہ کو ایک گڑھے میں کھڑا کر کے پتھر مارے گئے جس سے وہ ہلاک ہوگئی۔

ان کے بقول اس لڑکی پر گھر سے بھاگنے اور زنا میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔

یہ واقعہ مرکزی شہر فیروز کوہ کے ایک قریب ایک گاؤں میں 24 اکتوبر کو پیش آیا۔ خطیبی کے مطابق یہاں طالبان عسکریت پسندوں کا تسلط ہے جو "اپنے وحشیانہ قوانین نافذ کرتے ہیں۔‘‘

افغانستان کے آئین میں سنگساری غیرقانونی ہے اور ایسے واقعات کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں لیکن پھر بھی جنگ سے تباہ حال اس ملک میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کوئی غیر معمولی بات نہیں۔

رواں سال کے اوائل میں کابل میں ایک مشتعل ہجوم نے 27 سالہ فرخندہ نامی خاتون کو قرآن کی مبینہ بے حرمتی پر ڈنڈوں اور پتھروں سے تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر اسے زندہ جلا دیا تھا۔

اس واقعے کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد عالمی سطح پر افغانستان میں خواتین کی حالت زار کے بارے میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔

XS
SM
MD
LG