رسائی کے لنکس

افغان خواتین امریکی خاتون ناول نگار کی نظر میں


افغان خواتین امریکی خاتون ناول نگار کی نظر میں

افغان خواتین امریکی خاتون ناول نگار کی نظر میں

امریکی محکمہ خارجہ میں 27 سال تک خدمات انجام دینے والی ایک امریکی سفارت کار پیٹریشا مکارڈل نے، جنہوں نے اپنی ملازمت کے آخری ایام افغانستان میں گذارے تھے، حال ہی میں افغانستان کی خواتین اور معاشرے کو اپنے ایک ناول فرشتے کا موضوع بنایا ہے ۔ وہ افغانستان کے ساتھ لاطینی امریکہ ، کیریبین جزائر اور یورپ میں بھی خدمات انجام دے چکی ہیں ۔

پیٹریشا مکارڈل کو 2004ء میں مزار شریف ایک سینیئر امریکی سفارت کار کے طورپر تعینات کیا گیاتھا۔ اس وقت افغانستان پر امریکی حملے کو تین سال گزر چکے تھے اور امریکی افواج اور طالبان کے درمیان زبردست لڑائی جاری تھی ۔ پیٹریشا مکارڈل جب وہاں پہنچیں ، تو انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ انہیں کن حالات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

وہ ماضی کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ مجھے اندازہ ہوا کہ افغان حالات کا خوش اسلوبی سے مقابلہ کرنے والی اور موقع ملنے پر اپنے ملک کی خاطر بہت کچھ کر جانے وال قوم ہے۔

یہ وہ دور تھا کہ جب طالبان عہدمیں خواتین پر عائد کردہ پابندیاں رفتہ رفتہ اٹھائی جانے لگیں تھیں اور اب انہیں مکمل پردے کے بغیر بھی سکول جانے کی اجازت دی جاچکی تھی۔

پیٹریشا کہتی ہیں کہ جب میں افغانستان پہنچی تو ائیر پورٹ سے لے کر کابل میں امریکی سفارت خانے تک مجھے سڑکوں پر تمام خواتین نیلے برقعوں میں ملبوس دکھائی دیں۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ کامیاب افغان خواتین سے ملاقاتوں کے بعد ان کے بارے میں قائم کیا جانے والا تاثر زائل ہوناشروع ہوگیا۔وہ کہتی ہیں کہ میں ایسی افغان خواتین سے بھی ملی جو ڈاکٹر یا وکیل تھیں اور بہادری کے ساتھ افغان معاشرے میں خواتین کی مدد کر رہی تھیں۔ اور مجھے ان کی بہادری و ہمت نے بہت متاثر کیا۔

مگر پیٹریشا مکارڈل کا خیال ہے کہ افغان خواتین کو اپنے جائز حقوق اور معاشی اور معاشرتی مقام کے لیے ابھی ایک لمبا سفر طے کرنا ہوگا ۔

انہوں نے اپنا ناول ، ایک افغان کردار نیلوفر جیسی ترقی کی خواہش مند افغان خواتین سے متاثر ہو کر لکھا ہے ۔ وہ قانون کی طالبہ ہے ۔

ناول ’فرشتے ‘ افغانستان میں تعینات ایک غیر ملکی سفارت کار کی کہانی ہے، جسے مزار شریف کی ایک فوجی چھاؤنی میں برطانوی سپاہیوں کے ساتھ اپنے مترجم رحیم کے سرد رویے کا بھی سامنا کرنا پڑا ، کیونکہ وہ ایک خاتون کے ساتھ کام کرنے پر خوش نہیں تھا ۔

پیٹریشا کہتی ہیں کہ میں نے رحیم کی صورت میں مختلف ثقافتوں کا تضاد واضح کرنے کی کوشش کی کہ کس طرح ایک پڑھا لکھا اور جدید دور کا نمائندہ بننے کا خواہشمند انسان اس معاشرے کا حصہ ہے جس کے خلاف اسےجدوجہد کرنی ہے ۔

مگر افغانستان میں پیٹریشیا کے پاس لکھنے کے علاوہ بھی کرنے کو بہت کچھ تھا۔ ننھے ننھے افغان بچوں کودن بھر کھانا پکانے کےلیے لکڑیاں جمع کرتے دیکھ کر انہوں نے افغان دیہاتیوں کو شمسی توانائی سے چلنے والے سادہ چولہے استعمال کرنے کی تجویز دی۔

وہ کہتی ہیں کہ وہ اس بارے میں خاصے پرجوش دکھائی دئیے۔ مرد ان چولہوں پر چائے بنانا چاہتے تھے اور پوچھتے تھے کہ ہمارے پاس گاؤں میں سخت قسم کا گتہ تو موجود ہے مگر چمکدار کاغذ کہاں سے مل سکتا ہے؟ جس سے ان کی مراد المونیم فائل تھی۔ اور میں خوش تھی کہ وہ جدید چیزوں کا استعمال سیکھ رہے تھے۔

افغانستان سے واپسی کے بعد پیٹریشا توانائی کو دوبارہ قابل ِ استعمال بنانے اور تھرمل اور شمسی توانائی کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی تعمیر ِ نو میں توانائی کی یہ اقسام اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس سے افغان بچوں کو بھی آزادی سے تعلیم حاصل کرنے کا موقعہ ملے گا ، اور وہ مفید اور کارآمد شہری بن سکیں گے ۔

وہ کہتی ہیں کہ میری خواہش ہے کہ جتنا عرصہ بھی ہم افغانستان میں ہیں۔ ہم وہاں کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ ہماری کوشش ہونی چایئے کہ دیہاتوں میں بسنے والے افغانوں تک نچلی سطح پر دوبارہ قابل ِ استعمال توانائی کے ذرائع پہنچا سکیں۔

XS
SM
MD
LG