رسائی کے لنکس

امریکہ میں قید پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف مقدمے کی سماعت نیویارک کی ایک ضلعی عدالت میں جاری ہے لیکن اُن کی والدہ عصمت صدیقی کا کہنا ہے کہ اُن کی بیٹی بے گناہ ہے اور اس پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں۔

کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر وائس آف امریکہ سے بات چیت کے دوران اس مقدمے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انھوں نے کہا اُن کی بیٹی کا دماغی توازن درست نہیں اس لیے وہ اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات کا دفاع نہیں کر سکے گی۔

’’اُس نے کبھی چیونٹی نہیں ماری اور وہ ڈاکٹر اس لیے نہیں بن سکی کہ وہ مریض کو انجکشن لگتا نہیں دیکھ سکتی تھی‘‘

واضح رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف مقدمے کا آغاز تقریباً ڈیڑھ سال کی عدالتی کارروائیوں کے بعد منگل 19 جنوری کو ہوا۔ اُن پرافعانستان کی بگرام جیل میں قید کے دوران امریکی سکیورٹی اہلکاروں پرقاتلانہ حملے کا الزام ہے۔ ڈاکٹر عافیہ ابتداء ہی سے اس الزام کی تردید کرتی آئی ہیں۔

عافیہ صدیقی نے اعلیٰ تعلیم امریکہ سے حاصل کی۔ ان کے امریکہ میں قیام کے ایام کو یاد کرتے ہوئے عصمت صدیقی نے بتایا کہ ”برف باری کے دوران بوڑھی خواتین کو پیدل چلتا دیکھ کر وہ اپنی گاڑی فوراً روک لیا کرتی تھی ۔ انھیں بٹھا کر شاپنگ کروا کر گھر تک چھوڑ کر آتی تھی ۔ چاہے یہودی ہو عیسائی یا مسلمان مذہب کی پرواہ کیے بغیر وہ لوگوں کی مدد کرتی تھی‘‘۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی سال 2003 ء میں اپنے تین بچوں سمیت کراچی سے لاپتہ ہوگئی تھیں۔ ان کے گھر والوں کا الزام ہے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے عافیہ اور ان کے بچوں کو 2003ء میں اغواء کر کے امریکہ کی تحویل میں دیا تھا۔ جس کے بعد انھیں افغانستان میں بگرام جیل میں قید رکھا گیا۔ واضح رہے کہ عافیہ کے دو بچوں کا اب تک معلوم نہیں تاہم ان کا بڑا بیٹااحمد ان کے ساتھ ہی افغانستان سے ملا تھا جو اب پاکستان میں اپنی نانی اور خالہ کے پاس ہے اور اس کا ذہنی علاج جاری ہے۔

ڈاکٹر عافیہ کی والدہ عصمت صدیقی کا کہنا ہے جس طرح سے’’میری بیٹی کو اغواء کیا گیا اور اب تک جوسلوک اس کے ساتھ روا رکھا گیا میں اس پر بھی سب کو معاف کرتی ہوں بس میری بیٹی مجھے دے دیں‘‘۔

XS
SM
MD
LG