رسائی کے لنکس

عافیہ صدیقی کو 86سال قید کی سزا


عافیہ صدیقی کو 86سال قید کی سزا

عافیہ صدیقی کو 86سال قید کی سزا

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو نیو یارک میں ایک وفاقی امریکی عدالت نے 86 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ البتہ دوران قید ان کا وقتًا فوقتًا ذہنی معائنہ کرنے اور ضروری علاج معالجے کی بھی ہدایات جاری کی ہیں۔ ڈاکٹر صدیقی اپنی یہ سزا فورٹ ورتھ، ٹیکساس کی جیل فیڈرل میڈیکل فیسیلیٹی کارلزویل میں گزاریں گی جہاں خواتین قیدیوں کو ذہنی علاج کی سہولیات میسر ہیں۔ اپنے مقدمے کے دوران بھی ذہنی معائنے اور علاج کے لیے ڈاکٹر صدیقی کو ایف ایم سی کارلزویل بھیجا گیا تھا۔

عدالت کے مطابق ڈاکٹر صدیقی نے جولائی 2008 میں افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملہ کر کے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔

جمعرات کو بھری عدالت میں سزا سننے کے بعد ڈاکٹر صدیقی نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گی۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ وہ ان وکلاء کو نہیں رکھنا چاہتیں جنہوں نے ان کا مقدمہ لڑا ہے۔

سماعت کے دوران وکلاء صفائی نے ان کے لیے بارہ سال کی سزا کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ چونکہ انہوں نے اس سے پہلے کبھی کوئی جرم نہیں کیا، وہ ذہنی مریض ہیں، اور اپنے بچوں اور خاندان والوں سے دور ہیں اس لیے عدالت انہیں نرم ترین سزا دے۔

البتہ استغاثہ نے ایم آئی ٹی سے تعلیم یافتہ پاکستانی ڈاکٹر کے لیے عمر قید کا مطالبہ کیا تھا۔

کمرہ عدالت میں ڈاکٹر صدیقی کے بھائی محمد صدیقی کے علاوہ ان کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی اور عدالت کے باہر بھی ان کے حامی ان کے حق میں پوسٹر اٹھائے مظاہرہ کر رہے تھے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خاندان کی ترجمان ٹینا فوسٹر کے مطابق پاکستانی حکومت نے ان کی تمام تر اپیلوں کے باوجود ڈاکٹر صدیقی کی پاکستان واپسی کا موقع ضائع کر دیا اور اب ڈاکٹر صدیقی کی واپسی کے راستے میں قانونی مسائل حائل ہو گئے ہیں۔

انٹرنیشنل جسٹس نیٹ ورک سے وابستہ مس فوسٹر کے مطابق امریکہ اور پاکستان کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہے جس کے تحت ایک سزا یافتہ مجرم اپنی سزا پاکستان میں مکمل کر سکے یا اسے پاکستان بھجوایا جا سکے۔

فیصلے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر صدیقی کے وکلاء کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں اپیل کا ایک نہیں کئی پہلو ہیں۔

چار گھنٹے جاری رہنے والی سماعت میں ڈاکٹر صدیقی نے کئی دفعہ طویل بیان دیا مگر کمرے میں موجود لوگوں کو ان کی باتوں میں ربط نظر نہیں آیا۔ کبھی وہ اسرائیل کو اس پورے مقدمے کا ذمہ دار ٹھہراتی تھیں تو کبھی یہ کہتی تھیں کہ انہیں امریکیوں کے خلاف کئی سازشوں کا پتہ ہے اور وہ امریکیوں کو بچانا چاہتی ہیں۔

البتہ انہوں نے بار بار یہ کہا کہ وہ خون خرابہ نہیں امن چاہتی ہیں اور ان کے نام پر کوئی تشدد نہ کرے۔

ڈاکٹر صدیقی نے اپنے حامیوں سے یہ بھی اپیل کی کہ ان کے کیس میں سب کو معاف کر دیا جائے اور کوئی غصہ نہ کرے کیونکہ انہوں نے سب کو معاف کر دیا ہے اور وہ ‘‘خدا کی رضا میں راضی ہیں۔’’

انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں خفیہ جیلوں میں رکھا گیا تھا اور ان پر تشدد بھی کیا گیا تھا مگر انہیں جہاں اب رکھا گیا ہے وہاں ان پر کوئی تشدد نہیں ہو رہا۔

ڈاکٹر صدیقی کو جولائی 2008 میں افغانستان کے شہر غزنی سے افغان پولیس فورس نے حراست میں لیا تھا۔ اگلے دن ایک امریکی فوجیوں اور ایف بی آئی کے اہلکاروں پر مبنی ایک امریکی ٹیم ان سے تفتیش کرنے پہنچی اور وہ واقعہ پیش آیا جس کی بنا پر جمعرات کو انہیں سزا سنائی گئی۔

سماعت کی ابتداء میں جج برمن نے کہا کہ اس بات پر اتفاق نہیں کہ ڈاکٹر صدیقی غزنی میں کیا کر رہی تھیں اور اس پر مختلف مفروضے ہیں، مثلًا یہ کہ وہ اپنے شوہر عمّار ال بلوچی کی تلاش میں وہاں گئی تھیں، یا یہ کہ وہ امریکیوں پر حملہ کرنے وہاں گئی تھیں، یا طالبان میں کچھ دستاویزات تقسیم کرنے گئی تھیں۔

ڈاکٹر صدیقی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہیں سن 2003 میں ان کے تین بچوں سمیت پاکستان اور امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں نے اغوا کیا تھا اور پانچ سال انہیں خفیہ جیلوں میں رکھا اور ان پر تشدد کیا جس سے ان کا ذہنی توازن بگڑ گیا۔

ڈاکٹر صدیقی کے دو بچے پاکستان میں ان کے خاندان والوں کے پاس ہیں جبکہ تیسرے بچے کا کوئی پتہ نہیں۔

پاکستانی حکومت پر شدید سیاسی دباؤ ہے کہ وہ ڈاکٹر صدیقی کو پاکستان واپس لانے کے لیے امریکہ سے مذاکرات کرے لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ڈاکٹر صدیقی کی قانونی اور سفارتی ذرائع سے حتی الامکان مدد کر رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG