رسائی کے لنکس

جنگلی جانوروں سے بچاؤ کی انوکھی تراکیب


جنگلی جانوروں سے بچاؤ کی انوکھی تراکیب

جنگلی جانوروں سے بچاؤ کی انوکھی تراکیب

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ فصل تباہ کرنے والے بھاری بھرکم ہاتھی کو مرچوں کے محلول سے بھگایا جا سکتا ہے، یا گدھا کسی خوں خوار شیر کو ریوڑ سے دور رکھ سکتا ہے یا پھر چھپائے گئے سانپ کی مدد سے بندروں کو کھانے پینے کی اشیاء چرانے سے روکا جا سکتا ہے۔

اگر نہیں تو حیران مت ہوں یہ وہ مفید تراکیب ہیں جو اقوام متحدہ کے ادارے برائے خوراک و زراعت ”ایف اے او“ نے افریقہ میں جنگلی جانوروں کے حملوں سے انسانوں کی جان اور املاک کو ہونے والے نقصانات سے بچنے کے لیے تجویز کی ہیں۔

یہ تجاویز دنیا بھر، بلخصوص افریقہ، میں رہنے والے لوگوں کے لیے ایک ٹول کٹ کی شکل میں پیش کی گئی ہیں جس کا مقصد انسانوں پر حملہ آور ہونے والی جنگلی حیات کا تحفظ ہے کیوں کہ بہر حال ان جانوروں کو زندہ رکھتے ہوئے انہیں انسانوں سے دور رکھنا ان کو ہلاک کرنے سے بہتر ہو گا۔

ایف اے او کی ویب سائٹ پر شائع کی گئی معلومات میں کہا گیا ہے کہ آبادی میں اضافہ کے باعث غیر آباد علاقوں میں بھی لوگوں کی موجودگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس سے انسانوں اور جنگلی جانوروں میں تصادم کے امکانات بڑھ رہے ہیں ۔

سدھرن افریقن ڈویلپمنٹ کمیونٹی کی ٹیکنیکل کمیٹی برائے جنگلی حیات کے مطابق افریقہ کی دیہاتی آبادی کی زندگیوں اور اُن کی املاک کو سب سے زیادہ خطرہ جنگلی جانوروں سے ہے۔

ایف اے او کے ایک عہدیدار رینے زوڈیک (Rene Czudek) کا کہنا ہے کہ اگر ہاتھی ایک کھیت میں مکئی کی فصل تباہ کر دیتے ہیں تو کسان اور اس کا گھرانا سال بھر کے لیے اجناس سے محروم ہو جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ کھیتوں پر حملہ آور ہونے والے جنگلی ہاتھیوں کو بھگانے کے لیے ”مہیری پیری بْوم بر (Mhiripiri Bomber)“ نامی پلاسٹک کی بندوق کا استعمال کیا جائے جس کے ذریعے مرچوں کے محلول سے بھرے پنگ پانگ گیند 50 گز کی دوری تک پھینکے جا سکتے ہیں ۔ یہ گیند نشانے سے ٹکرانے کے بعد پھٹ جاتے ہیں اور ان میں موجود محلول ہاتھی کو بھاگنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

کسان مرچوں اور گوبر کے مرکب کو کھیتوں کے کنارے رات کے وقت سُلگا کر بھی ہاتھیوں کو فصل سے دور رکھ سکتے ہیں جب کہ مرچوں کی فصل کاشت کرکے بھی ایسے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

ایف اے او کا کہنا ہے کہ دریائی گھوڑوں کی آنکھ پر تیز روشنی ڈالی جائے تو وہ قریب نہیں آئیں گے البتہ ساتھ ہی متنبہ کیا گیا ہے کہ ایسی صورت میں اس جانور کا حملہ کر دینے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔

ادارے کے مطابق کینیا کے کچھ علاقوں میں کسان کھیتوں کی حفاظت کے لیے گدھے بھی پالتے ہیں کیوں کہ یہ بے خوف ہوتے ہیں اور اپنے سے بڑے گوشت خور جانوروں کو آوازیں نکال کر، کاٹ کر، یا لاتوں سے حملہ کرکے بھاگنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

جب کہ بندروں کو کھانے پینے کی اشیاء چرانے سے باز رکھنے کے لیے لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ان اشیاء میں سانپ، جو زندہ ہو تو بہتر ہے، چھپا کر رکھ دیں تا کہ بندر ان کے خوف سے دور رہیں۔

البتہ ایف اے او کا کہنا ہے کہ ان مسائل کا بہترین حل تو یہ ہو گا کہ انسان جنگلی جانوروں کو خطرے کے بجائے ایک اثاثہ سمجھیں اور ایسے اقدامات اٹھائیں جن کی مدد سے جانوروں سے کم سے کم تصادم کا سامنا کرنا پڑے۔

XS
SM
MD
LG