رسائی کے لنکس

افضل گورو کا آخری خط: اہل ِخانہ پھانسی پر افسوس نہ کریں

  • یوسف جمیل
  • سری نگر

فائل

فائل

بتایا جاتا ہے کہ تختِ دار پر لٹکائے جانے سے پہلے نو فروری کی صبح چھ بج کر 25منٹ پر اُنھوں نے اپنے اہل ِ خانہ کے نام اردو میں آخری خط لکھا۔ اس تحریر کے بارے میں خاندان کا کہنا ہے کہ وہ گورو کی لکھائی سے مانوس ہیں، اور یہ اُنہی کا خط ہے

محمد افضل گورو جِن کا تعلق بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے سوپور سے تھا اور جنہیں بھارتی پارلیمان حملہ کیس میں مجرم قرار دیا گیا تھا، نو فروری کو دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی۔

تختِ دار پر لٹکائے جانے سے پہلے نو فروری کی صبح چھ بج کر 25منٹ پر اُنھوں نے اپنے اہل ِ خانہ کے نام اردو میں آخری خط لکھا تھا۔

افضل گورو نے اپنے اِس آخری خط میں اپنے خاندان کے افراد سے گذارش کی ہے کہ وہ اُنھیں پھانسی دیے جانے پر افسوس کرنے کے بجائے اُنھیں حاصل ہونے والے مقام کا احترام کریں۔

خط کے بارے میں اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ گورو کی تحریر سے مانوس ہیں اور ’یہ واقعی اُنہی کی لکھائی ہے‘۔ خط کا اختتام اِن الفاظ میں ہوتا ہے: ’اللہ پاک آپ سب کا حافظ و ناصر ہو۔ اللہ حافظ‘۔

اِس خط کو جیل حکام نے گذشتہ دِنوں افضل گورو کی اہلیہ تبسم کو بھیجا تھا اور اُسے اتوار کے روز اُنھوں نے ذرائع ابلاغ کے ذریعے منظرِ عام پر لایا۔

بھارتی زیر انتظام کشمیر میں جہاں افضل گورو کو پھانسی دینے کے خلاف بڑے پیمانےپر عوامی ردِ عمل مشاہدے میں آیا ہے، اُن کے جسدِ خاکی کو لوٹانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ افضل گورو کو تہاڑ جیل کے احاطے ہی میں دفن کیا گیا۔

اس سے پہلے، 11 فروری 1984ء کو کشمیری قوم پرست لیڈر اور جموں و کشمیر نیشنل لبریشن فرنٹ کے بانی راہنما محمد مقبول بٹ کو بھی اِسی جیل میں تختِ دار پر لٹکانے کے بعد جیل کے اندر ہی سپردِ خاک کیا گیا تھا۔

سری نگر کے عیدگاہ مزارِ شہدا پر مقبول بٹ کے بعد اب افضل گورو کی قبر کے لیے بھی جگہ مخصوص کرکے اس پر باضابطہ مزارِ لوح نصب کی گئی ہے۔

افضل گورو کی اہلیہ اور خاندان کے دوسرے افراد نے مقامی انتظامیہ اور جیل حکام کو الگ الگ خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ افضل گورو کے جسدِ خاکی کو اُنھیں لوٹایا جائے، تاکہ اُن کے آبائی وطن کشمیر میں اُن کی آخری رسومات انجام دی جا سکیں۔
XS
SM
MD
LG