رسائی کے لنکس

پاکستان میں فن کی دنیا کے عظیم معمار، آغا ناصر ہم میں نہیں رہے

  • بہجت جیلانی

اُنہوں نے ریڈیو پاکستان کے لئے ’حامد میاں کے ہاں‘ اور ’اسٹوڈیو نمبر 9‘ اور ٹیلی ویژن کیلئے بیسیوں شہرہ آفاق ڈرامے تخلیق کئے

معروف براڈکاسٹر، پروڈیوسر اور مصنف آغا ناصر طویل علالت کے بعد اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔

پاکستان میں براڈکاسٹنگ، فلم اور میڈیا کا سفر آغا ناصر کا ذکر کئے بغیر پورا نہیں ہو سکتا۔ 1955ء میں ریڈیو پاکستان میں پروڈیوسر کے طور پر اپنے پیشہ ورانہ کیرئیر کا آغاز کرنے کے بعد، آغا ناصر ایک کے بعد ایک بڑے مرحلے سے گزرتے رہے اور میڈیا کی جہتوں کو تقویت دیتے رہے۔

پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈائریکٹر پروگرام، ’نیفڈیک‘ کے منیجنگ ڈائریکٹر، پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے ڈائریکٹر جنرل، پاکستان ٹیلی ویژن کے منیجنگ ڈائریکٹر، پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے ڈائریکٹر جنرل، شالیمار ریکارڈنگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو اور جیو ٹیلی ویژن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دینے والے، آغا ناصر کو پاکستان براڈکاسٹنگ انڈسٹری کے بانیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

اُنہوں نے ریڈیو پاکستان کے لئے ’حامد میاں کے ہاں‘ اور ’اسٹوڈیو نمبر 9‘ اور ٹیلی ویژن کیلئے بیسیوں شہرہ آفاق ڈرامے تخلیق کئے۔ آغا ناصر نے کئی فلموں کی ہدایت کاری بھی کی جن میں وحید مراد اور طلعت اقبال جیسے اداکاروں نے کام کیا۔

آغا ناصر کی زندگی کے ان نمایاں اور ممتاز مراحل کو دیکھتے ہوئے جب ہم اُن کی تصنیفات پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ ایک مثالی شخصیت تھے جنہوں نے ایک کامیاب پیشہ ورانہ زندگی کزارتے ہوئے اپنی سوچ اور فکر کے سفر کو متاثر نہیں ہونے دیا۔ سات ڈرامے، ٹیلی ویژن ڈرامے، گمشدہ لوگ، گلشن یاد، ہم جیتے جی مصروف رہے اور This is PTV-Another Day جیسی تصنیفات اُن کے اس فنی سفر کا نتیجہ ہیں۔

آغا ناصر ادبی، سماجی اور ثقافتی اجتماعات میں ایک انتہائی جانی پہچانی شخصیت کے طور پر شرکت کرتے رہے اور ان گنت لوگوں کو اُن کی رہنمائی حاصل رہی۔ اُن کی خدمات کے اعتراف میں اُنہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔

آغا ناصر کو اُن کی بیشمار خوبیوں کی وجہ سے آنے والے دور میں طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG