رسائی کے لنکس

چکوال سے احمدیہ برداری کے بعض افراد کی نقل مکانی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

رواں ہفتے کے اوائل میں ضلع چکوال کے دوالمیال گاؤں میں احمدیہ برادری کی ایک عبادت گاہ پر لگ بھگ ایک ہزار مشتعل افراد نے دھاوا بول کر وہاں موجود افراد کے خلاف نعرے بازی کی۔

صوبہ پنجاب کے شمالی ضلع چکوال کے ایک گاؤں سے احمدیہ برادری سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد سلامتی کی خدشات کی بنا پر علاقہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

رواں ہفتے کے اوائل میں ضلع چکوال کے دوالمیال گاؤں میں احمدیہ برادری کی ایک عبادت گاہ پر لگ بھگ ایک ہزار مشتعل افراد نے دھاوا بول کر وہاں موجود افراد کے خلاف نعرے بازی کی۔

اس واقعہ کے بعد علاقے میں صورت حال کشیدہ ہو گئی، اگرچہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے صورت حال پر قابو پا لیا تاہم اب بھی مقامی احمدیہ برداری کے افراد خوف و ہراس کا شکار ہیں۔

جماعت احمدیہ کے مرکزی ترجمان سلیم الدین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ جو افراد گاؤں کو چھوڑ کر گئے ہیں ان میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

"سارے افراد کیسے اپنے گھر بار چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔۔۔اب حکومت ان کو سکیورٹی فراہم کر رہی ہے تاہم اس واقعہ کے بعد لوگ پریشان ہیں۔"

چکوال کے ضلعی پولیس افسر منیر مسعود مارتھ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ احمدیہ برداری کے لوگ اب بھی اپنے گاؤں میں ہی مقیم ہیں اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے پولیس اور قانون نا فذ کرنے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔

دوسری طرف انسانی حقوق کے موقر غیر سرکاری ادارے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے احمدیہ برداری کے افراد کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ربوہ میں احمدیہ جماعت کے دفتر پر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی چھاپے اور چکوال میں ان کے عبادت گاہ پر ہونے والے حملے کی غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

’ایچ آر سی پی‘ کی طرف سے بدھ کو جاری ہونے والے بیان میں چکوال میں احمدیہ برداری کی عبادت گاہ پرمشتعل افراد کے حملے پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔

حکومت کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ ملک میں آباد تمام شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں اور کسی تفریق کے بغیر ان کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے تاہم اس کے باوجود پاکستان میں آباد دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد اور احمد یہ برداری کو سماجی امتیاز کے ساتھ ساتھ تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG