رسائی کے لنکس

’گذشتہ ایک دہائی کے دوران 49پاکستانی صحافیوں کو قتل کیا گیا، جِن میں سے نو کا تعلق قبائلی علاقوں سے تھا‘

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم، ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کے مطابق، پاکستان کے قبائلی علاقوں کےصحافیوں کی اکثریت دھمکیوں اور دباؤ کے باعث عدم تحفظ کا شکارہے۔ اور اُن صحافیوں کی اکثریت قبائلی علاقوں سے منتقل ہونے کے باوجود اپنے اہل و عیال کی حفاظت کے لیے آزادانہ صحافت کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے سے قاصر ہے۔

’وائس آف امریکہ‘ سے بات چیت کرتے ہوئے ’ایمنسٹی انٹرنیشنل، پاکستان‘ کے تحقیق کار، مصطفیٰ قادری نے بدھ کے روز شمالی وزیرستان میں سینئر صحافی اور میران شاہ پریس کلب کے صدر ملک ممتاز کی ٹارگٹ کلنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستانی حکومت سے واقع کی جلد از جلد آزادانہ تحقیقات کرنے اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کے مطابق، گذشتہ دہائیوں میں 49پاکستانی صحافیوں کو قتل کیا گیا جس میں کہ 35صحافیوں کو نہ صرف اُن کی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں اور رپورٹنگ کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا، لیکن اب تک کسی بھی کیس میں ملزمان کو نہ تو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی اُنھیں سزا دی گئی۔

مصطفیٰ قادری کے الفاظ میں قتل کیے گئے صحافیوں کو انصاف کی عدم فراہمی اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ حکومت یا تو یہ سب کچھ روکنے سے قاصر ہے اور یا ایسا کرنا ہی نہیں چاہتی۔

اُنھوں نے کہا کہ، ’قبائلی صحافی پاکستان کے خطرناک ترین علاقوں سے اپنی رپورٹنگ کے ذریعے دنیا کو باخبر رکھنے کے جہاد میں مصروف ہیں۔ اِن کے تحفظ کو یقینی بنانا پاکستانی حکومت، جب کہ اُنھیں انصاف فراہم کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے‘۔

مصطفیٰ قادری کے الفاظ میں اب تک پاکستان میں نو قبائلی صحافیوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے، کئیوں کو زخمی کیا گیا ہے اور اُنھیں دھمکیاں دی جارہی ہیں جس کے باعث اُنھیں اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا اور یہ ایک معمول بن چکا ہے۔

اُن کے بقول، قبائلی صحافیوں کو صرف اپنی رپورٹنگ کے باعث إِن مشکلات کا سامنا ہے۔

تجزیہ کاروں کےمطابق، قبائلی علاقے کےصحافیوں کے لیے اگر ایک طرف سکیورٹی فورسز کے مفادات کا خیال رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے، تو دوسری طرف طالبان کی ناراضگی مول لینا بھی ان کے لیے خطرے سے خالی نہیں۔

’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کی معلومات کے مطابق یہی وجہ ہے کہ قبائلی صحافیوں کی اکثریت نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔
XS
SM
MD
LG