رسائی کے لنکس

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ملالہ یوسف زئی پر حملے کی مذمت


Pakistani hospital workers carry injured Malala Yousafzai attacked by gunmen in Mingora on October 9, 2012.

Pakistani hospital workers carry injured Malala Yousafzai attacked by gunmen in Mingora on October 9, 2012.

’پاکستان میں انسانی حقوق، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے، کام کرنے والے’ پیس اکٹوسٹس‘ کو سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے’

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سوات کی 14سالہ قومی امن ایوارڈ یافتہ طالبہ ملالہ یوسف زئی پر طالبان کی جانب سے کیے گئے قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری اور ملالہ اور اُس کے خاندان کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

’وائس آف امریکہ‘ سے بات چیت کرتے ہوئے ایمنسٹی انٹرنیشنل میں پاکستان کے ہیڈ ریسرچر، مصطفیٰ قادری کا کہنا تھا کہ وہ سوات میں تعلیم اور انسانی حقوق کے لیے لڑ رہی تھیں۔

اُن کے الفاظ میں: ’ملالہ پر حملے کی خبر سن کر سخت افسوس ہوا‘۔

اُن کے بقول، ’اِس سےبخوبی پتا چلتا ہے کہ ابھی بھی سوات میں قبائلی علاقے میں حکومت کو وہ سب کچھ کرنا چاہیئے جس کی ضرورت ہے۔‘

ایمنسٹی کے عہدے دار نے کہا کہ پاکستان میں انسانی حقوق، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے، کام کرنے والے’ پیس اکٹوسٹس‘ کو سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے، جس کے سد باب کے لیے سنجیدہ کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

ملالہ یوسفزئی پر قاتلانہ حملے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ معاشرے میں خواتین کے حقوق سے آگاہی اور ان کے تحفظ کے لیے تعلیم اور شعور اجاگر کرنا لازمی بن چکا ہے۔

ایمنسٹی کی جانب سےجاری کیے گئے ایک بیان میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے طالبان کے خلاف آپریشن زدہ علاقوں میں لڑکیوں کے تباہ شدہ اسکولوں کی بحالی اور خواتین کو یکساں مواقع فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG