رسائی کے لنکس

عراقی کُرد جان بوجھ کر عرب دیہات مسمار کر رہے ہیں: ایمنسٹی


فائل

فائل

شمالی عراق میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے تحقیق کار کے بقول، ’شہریوں کو زبردستی بے دخل کرنا اور بغیر کسی جواز کے، اُن کے گھروں اور املاک کو تباہ کرنا، جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتا ہے‘

حقوق انسانی کے ادارے، ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے بدھ کے روز عراقی کُردوں پر الزام لگایا کہ شمالی عراق میں عربوں کے ہزاروں گھروں کو دانستہ طور پر مسمار کیا جا چکا ہے، جو بظاہر داعش کے شدت پسندوں کی فرضی حمایت کا بدلہ خیال کیا جاتا ہے۔

ایک نئی رپورٹ میں، جس کا عنوان ’جلا وطن اور بے دخل کیا جانا‘ ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ پیشمرگہ کی فوجوں نے گذشتہ برسوں کے دوران نینوا، کرکوک اور دیالہ کے صوبوں میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی ہے، ایسے میں جب اُنھوں نے وہ رقبہ واگزار کرایا جس پر 2014ء کے دوران داعش کے لڑاکوں نے قبضہ جما لیا تھا۔

حقوقِ انسانی کے گروپ نے کہا ہے کہ ’کُرد فوجوں نے عرب برادریوں کے مکانات کو منہدم کیا، بموں سے اُڑا دیا یا نذرِ آتش کیا اور اُنھوں نے عربوں کو اپنے دیہات کی طرف واپس آنے کی اجازت نہیں دی‘۔

دوناتیلا رویرا شمالی عراق میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے تحقیق کار ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’شہریوں کو زبردستی بے دخل کرنا اور بغیر کسی جواز کے، اُن کے گھروں اور املاک کو تباہ کرنا، جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتا ہے‘۔

دولت اسلامیہ کے باغیوں نے ڈیڑھ برس قبل شمالی عراق اور شمالی شام میں ایک بڑے رقبے پر قبضہ کر لیا تھا، حالانکہ کرد لڑاکے جنھیں داعش کے اہداف پر امریکی قیادت والے اتحاد کی جانب سے فضائی حملوں کی مدد حاصل ہے، اب تک علاقے کا تقریباً 40 فی صد رقبہ واگزار کرا لیا ہے۔

آرمی کرنل اسٹیو وارن نے، جو عراق میں امریکی قیادت والے اتحاد کے ترجمان ہیں، بتایا ہے کہ وہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو ’بہت ہی سنجیدگی سے لیتے ہیں‘۔

ایمنسٹی انٹرنشنل نے کہا ہے کہ اُس کی یہ رپورٹ 13 دیہات اور قصبہ جات کے دورے کے بعد تیار کی گئی ہے، جس میں 100 عینی شاہدین اور بے دخل مکینوں کے داستانیں شامل ہیں، اور ساتھ ہی، سیٹلائٹ کی تصاویر سے تباہ ہونے والے مکانات کا پتا چلتا ہے۔

انسانی حقوق کے گروپ نے کہا ہے کہ کُرد رہنماؤں نے سکیورٹی کی بنا پر عربوں کی بے دخلی کو جائز قرار دیا ہے۔ تاہم، اُنھوں نے کہا ہے کہ لگتا یوں ہے کہ داعش کے لڑاکوں کے لیے ’تصور کردہ ہمدردی کو بہانہ بنا کر‘ یہ سزا دی گئی ہے اور شمالی عراق میں حاصل کردہ علاقے پر قبضے کو مضبوط کرنے کا جواز بنایا گیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ ’یہ اُس مہم کا حصہ ہے جس کے تحت صدام حسین کی حکومت کے دوران دی گئی اذیت کا حساب لینا ہے، جس نے کُردوں کو طاقت کے زور پر اکھاڑ پھینکا اور اُنہی علاقوں میں عربوں کو بسایا گیا تھا‘۔

XS
SM
MD
LG