رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش میں انٹرنیٹ کے ’’آمرانہ‘‘ قوانین پر عمل کیا جا رہا ہے: ایمنسٹی


بلاگر، محی الدین شریف

منگل کے روز جاری کی گئی ایک نئی رپورٹ میں، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں ذرائع ابلاغ کے ارکان پولیس اور مسلح گروہوں کے ہاتھوں ’’محصور‘‘ ہو کر رہ گئے ہیں، جنھیں دھمکیاں دی جاتی ہیں

حقوقِ انسانی کے نگراں گروپ، ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے انٹرنیٹ کے قوانین کے ’’آمرانہ‘‘ استعمال پر بنگلہ دیش کی مذمت کی ہے، جو، بقول اُس کے، بنگلہ دیشی حکومت اپنے ناقدین کو خاموش کرانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

منگل کے روز جاری کی گئی ایک نئی رپورٹ میں، ایمنسٹی نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں ذرائع ابلاغ کے ارکان پولیس اور مسلح گروہوں کے ہاتھوں ’’محصور‘‘ ہو کر رہ گئے ہیں، جنھیں دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

اولوف بلوم کوسٹ اِس تحقیقی رپورٹ کے سرکردہ تحقیق کا ہیں۔ بقول اُن کے، ’’بنگلہ دیش کی سیکولر آوازیں شدت پسند مسلح گروپوں اور ریاست کے جبر کے سامنے دب گئی ہین؛ جنھیں مستقل خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ نہ صرف حکومت عوام کے اظہار آزادی کے حق کے تحفظ میں ناکام رہی ہے، بلکہ جابرانہ نوعیت کے متعدد قوانین کا سہارا لے کر بلاگروں اور صحافیوں کے کام کو مجرمانہ فعل قرار دیا جاتا ہے اور اُنھیں دھمکیاں دی جاتی ہیں۔‘‘

رپورٹ میں 2006ء میں منظور کردہ رابطے کی ٹیکنالوجی سے متعلق قوانین کا حوالہ دیا گیا ہے، جنھیں بنگلہ دیش کی حکومت اپنے ناقدین کو خاموش کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’2013ء سے لے کر متعدد نامی گرامی صحافیوں اور ایڈیٹروں کو سیاسی بنیادوں پر مجرمانہ الزامات کا سامنا ہے۔ اِن میں سے زیادہ تر میڈیا سے وابستہ اداروں سے متعلق ہیں جو حکومت پر تنقید کرتے ہیں یا پھر سیاسی مخالفین کے حامی ہیں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG