رسائی کے لنکس

ایسے میں جب موصل شہر پر داعش کے شدت پسندوں کا قبضہ چھڑانے کی لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے، بچوں کے بہبود کے لیےکام کرنے والے ایک بین الاقوامی خیراتی ادارے نے بتایا ہے کہ کُرد اور عراقی افواج کی فائرنگ سے بچنے کے لیے ہزاروں افراد موصل کے علاقے سے بھاگ رہے ہیں۔

امدادی گروپ نے کہا ہے کہ گذشتہ 10 دِنوں کے دوران تقریباً 5000 افراد شام کی سرحد پر ایک مہاجر کیمپ کی جانب جا چکے ہیں، جب کہ مزید لوگوں کی آمد کے باعث رش بڑھتا جا رہا ہے۔

خیراتی ادارے کے موصل کے سربراہ، طارق قادر نے کہا ہے کہ ’’بے سر و سامانی کے عالم میں بھاگ نکلنے والے ان افراد کے جسم پر بمشکل لباس موجود ہے‘‘۔

عراق میں داعش کے زیر قبضہ اس آخری شہری ٹھکانے کو واگزار کرانے کے لیے جاری لڑائی مہینوں تک نہ سہی ہفتوں تک بھی جاری رہتی ہے تو بھی شہری آبادی کی صورت حال بدتر ہوتی جائے گی۔

منگل کو عراقی اور کُرد رہنماؤں نےاقوام متحدہ کے کمشنر برائے مہاجرین، فلیپ گرانڈی کو بتایا ہے کہ شہری آبادی کے تحفظ کے لیے اُنھیں اچھی کارگزاری دکھانی ہوگی۔ گرانڈی نے کُردستان کے دارالحکومت، اربیل میں اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’موصل میں شہری آبادی کے تحفظ کی ذمہ داری محض انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والی چند تنظیموں کا کام نہیں ہے۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’ہمارے خیال میں بہت سارے لوگ موصل چھوڑ دیں گے۔ لیکن ہمیں بڑی تعداد میں بے دخل ہونے والوں کے لیے منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔ اُنھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور حکومت کے پاس بہت سا سامان موجود ہے، مثلاً مخصوص خیموں کی طرز کا سامان، جو لاکھوں افراد کی ضروریات کو پورا کرسکتا ہے، مثال کے طور پر 400000 کی ضروریت۔ خیال کیا جاتا ہے موصل میں شہری آبادی کی تعداد تقریباً 10 لاکھ ہوجائے گی۔

شہر میں، داعش کے لڑاکوں نے دو برس تک کنٹرول جاری رکھا ہے، جو اب وسیع علاقے پر پھیل چکے ہیں۔۔۔اُن کا خیال ہے کہ اکٹھی کی ہوئی خوراک اور رسد لڑائی کے دوران اُن کی ضرورت پوری کرے گی۔ شہری آبادی کی ہلاکتوں سے بچنے کے لیے فضائی کارروائی کے دوران امریکی قیادت والے اتحاد اور عراقی لڑاکا طیارے رہائشی علاقوں کو ہدف نہیں بنا رہے ہیں۔

مکینوں کا کہنا ہے کہ اُنھیں باہر نکلنے سے خوف آتا ہے، ایسے میں جب داعش کے لڑاکے زیادہ ظالمانہ حربوں پر اتر آئے ہیں، جن کا انداز مزید غیر متوقع نوعیت کا ہوتا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG