رسائی کے لنکس

ایڈز اور دیگر خطرناک بیماریوں کے لیے بین الاقوامی فنڈز کی کمی

  • جو کاپووا

عطیات دینے والے ملک قرض کم کرنے کے لیے اپنے بجٹ میں کمی کر رہے ہیں اور گلوبل فنڈ ٹو فائیٹ ایڈز، ٹی بی اور ملیریا جیسی تنظیمیں اس پالیسی سے متاثر ہو رہی ہیں ۔ گذشتہ نومبر میں اس فنڈ نے اعلان کیا کہ 2014 تک کوئی نئے عطیات نہیں دیے جائیں گے ۔ حال ہی میں واشنگٹن میں امریکہ اور فنڈ کے عہدے داروں، غیر سرکاری تنظیموں اور بڑے بڑے کاروباری اداروں کا اجلاس ہوا جس میں فنڈ کے مستقبل پر بات ہوئی ۔

دی گلوبل فنڈ ٹو فائیٹ ایڈز، ٹی بی اینڈ ملیریا، دس سال پرانی سرکاری اور پرائیویٹ شراکت داری ہے ۔ یہ تنظیم حکومتوں، فلاحی تنظیموں اور بڑی بڑی کارپوریشنوں سے عطیات قبول کرتی ہے ۔ اس نے 150 ملکوں میں 1000 سے زیادہ پروگراموں کے لیے تقریباً 23 ارب ڈالر کے عطیات فراہم کیے ہیں۔
20 مارچ کو واشنگٹن ڈی سی میں جو میٹنگ ہوئی، اس میں شرکت کرنے والی بڑی کارپوریشنوں میں کوکاکولا اور توانائی پیدا کرنے والی کمپنی Chevron شامل تھی۔

Chevron کو پہلے گلوبل فنڈ کارپوریٹ چیمپیئن کا اعزاز دیا گیا۔ Chevron کے گلوبل پارٹنرشپ پروگراموں کے منیجر میٹ لونر نے بتایا’’ایڈز میں خاص طور سے، ہماری دلچسپی 25 سال پرانی ہے ۔ ہماری کمپنی کا ہیڈ کوارٹر سان فرانسسکو میں ہے ۔ لہٰذا ہمیں شروع ہی سے نہ صرف اپنے شہر میں، بلکہ افریقہ میں اور انگولا میں اور جن دوسرے علاقوں میں ہم 75 برس سے زیادہ عرصے سے کام کرتے رہے ہیں، اس مسئلے کی شدت کا احساس تھا۔‘‘

امریکہ میں ایڈز کے اولین کیسوں کی رپورٹ تیس سال سے زیادہ عرصے قبل سان فرانسسکو سے ملی تھی ۔

لونر کہتے ہیں کہ Chevron کے لیے اچھی صحت کا مطلب ہے اچھا بزنس۔’’یہ صرف ذاتی مسئلہ نہیں تھا بلکہ اس کا تعلق ہمارے کاروبار سے بھی ہے ۔اس سے ہمارے کارکن اور ان کے گھرانے متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے ان میں سے بعض انتہائی پیچیدہ بیماریوں بسے ہمارا بہت قریبی تعلق ہے۔‘‘

Chevron کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اس کے ملازمین کی تعداد 60,000 ہے ۔ فنڈز کی فراہمی کے سلسلے کی منسوخی سے، جسے راؤنڈ 11 کہا جاتا ہے، علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرنے والوں اور مریضوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ عالمی کساد بازاری ایسے وقت آئی جب ایڈز کی روک تھام کے لیے انٹریٹرووائرل تھیریپی کے استعمال سے بڑی اہم پیش رفت ہوئی تھی ۔ اس کے علاوہ، ویکسین پر تحقیق اور مائکروبائیسائڈز کے بارے میں بڑی حوصلہ افزا اطلاعات ملی تھیں۔ لونر کہتے ہیں’’میرے خیال میں عالمی معیشت میں کساد بازاری کی وجہ سے عطیات دینے والے ملکوں کی طرف سے فنڈز کی فراہمی پر اثر پڑا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان کے سامنے بہت سی ترجیحات ہیں، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ وبائیں بہت اہم ہیں۔‘‘

لونر کہتے ہیں کہ ان مشکل اقتصادی حالات میں، Chevron اور کوکاکولا جیسی کارپوریشنوں کی طرف سے دیے جانے والے عطیات سے بڑی اچھی مثال قائم ہوتی ہے ۔’’میرے خیال میں پرائیویٹ سیکٹر کی دلچسپی کی وجہ سے یہ مسائل اہم ہو جاتے ہیں۔ جب حکومتیں یہ دیکھتی ہیں کہ پرائیویٹ سیکٹر ان بیماریوں کے لیے پیسہ دے رہا ہے، تو اس سے حکومتوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ وہ بھی ایسے ہی اقدام کریں اور یہ عہد کریں کہ وہ اپنے ملکوں میں، اور ضرورت مند ملکوں میں ان مسائل پر توجہ دیں گے ۔ پرائیویٹ سیکٹر اجتماعی طور پر کافی اہم کام کر سکتا ہے لیکن وہ پھر بھی اتنے بڑے پیمانے پر یہ کام نہیں کر سکتا جتنا ملکی حکومتیں کر سکتی ہیں۔‘‘

جب عالمی کساد بازاری شروع ہوئی، تو جو لوگ ایچ آئی وی /ایڈز، ٹی بی، اور ملیریا کی روک تھام کا کام کر رہے تھے، ان سے کہا گیا کہ وہ اپنا کام کم پیسوں سے کریں، یعنی کم وسائل سے زیادہ بہتر نتائج حاصل کریں۔

ادھر ، کوکا کولا نے بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے ساتھ شراکت داری قائم کی ہے جس کے تحت ترقی پذیر ملکوں میں انٹریٹرووائرل تھیریپی علاج کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں ۔ کوک آرای ایڈ کے ساتھ مل کر بھی کام کر رہا ہے ۔ یہ ایک مہم ہے جس کے تحت بعض برانڈ نام کی چیزوں کی فروخت سے صحت کے پروگراموں کے لیے فنڈز جمع کیے جاتے ہیں ۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس مہم کے ذریعے افریقہ میں عالمی فنڈ کے پروگراموں کے لیے تقریباً 20 کروڑ ڈالر کی رقم جمع کی گئی ہے ۔

XS
SM
MD
LG