رسائی کے لنکس

سماجی رویے ایڈز کی روک تھام میں بڑی رکاوٹ

  • کیرل پیئرسن

طبی شعبے میں ہونے والی تمام تر ترقی کے باوجود ایڈز اب بھی ایک جان لیوا مرض ہے۔ سائنس دان اس بیماری پر قابو پانے کے لیے ایک عرصے سے کوششیں کررہے ہیں اور 1985ء کے بعد سے، جب اس موضوع پر ہونے والی پہلی کانفرنس میں ماہرین تبادلہ خیالات کے لیے اکھٹے ہوئے تھے، کافی پیش رفت ہوچکی ہے۔ان ویانا میں اس سلسلے کی 18 ویں سالانہ کانفرنس کی تیاریاں جاری ہیں۔جس میں امکان ہے کہ یہ جائزہ لیا جائے گا کہ سماجی رویے اس مرض پر قابو پانے میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

بہت سے ملکوں میں ایڈز میں مبتلا لوگوں سے اسی طرح دور رہنے کی کوشش کی جاتی ہے جیسا کہ ٹی بی کے مریضوں سے۔ ایچ آئی وی میں، جو کہ ایڈز کا سبب ہے، مبتلا بہت سے افراد ٹی بی کے بھی مریض ہوتے ہیں۔ ٹی بی چھوت کی ایک خطرناک بیماری ہے جو باآسانی ایک شخص سے دوسرے کو منتقل ہوجاتی ہے۔

لیسوٹو کے ایک کلینک سے منسلک ڈاکٹرہیلن بائے گریوو کہنا ہے ۔ ہمارے پاس آنے والے ٹی بی کے 80 سے90 فی صد تک مریض ایچ آئی وی میں بھی مبتلاہوتے ہیں۔

ایچ آئی وی میں مبتلا افراد سے لوگ دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ اس بیماری کو اخلاقیات اور مذہب کےنقطہ نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ایڈز کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی ایک سرگرم کارکن سسکما ریٹری کا کہنا ہے کہ ایڈزکا اخلاقی اقدار یا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ میں اپنے ملک میں ان لوگوں کی نمائندگی کرتی ہوں جنہیں ایک محفوظ گروپ تصور کیا جاتا ہے۔ کیونکہ میری وفاداری صرف اپنے شوہر سے ہے۔ میں نے کبھی کوئی خطرہ مول نہیں لیا، اور نہ ہی پیسہ کمانے کے لیے الٹے سیدھے کام کیے۔ میں نے ایک صاف ستھری زندگی گذاری ہے۔ لیکن اس کے باوجود میں ایچ آئی وی پازیٹوہوں۔

حتیٰ کہ اسلامی ممالک میں بھی، آیچ آئی وی کے مریض موجود ہیں۔ اگرچہ اس وقت وہ تھوڑے ہیں لیکن اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ان کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں بنیادی طورپر ایسے لوگ ایڈز میں مبتلا ہیں جو یا تو منشیات استعمال کرتے ہیں، ہم جنس پرست ہیں ،یا ان کے روابط جسم فروشوں کے ساتھ ہیں۔ اکثر معاشروں میں لوگ ایسے افراد سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ویانا میں ہونے والی کانفرنس کی توجہ کا مرکز ایچ آئی وی اور ایڈز لوگوں کے حقوق ہوگا۔

یوایس گلوبل ایڈز کے کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر ایرک گوزبائی نے کانفرنس کے لیے روانہ ہونے سے قبل وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایڈز پر قابو پانے کے لیے ، ایسے افراد کے بارے میں معاشرے کو اپنا رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہناتھا کہ ایسے افراد اکثر اوقات طبی مراکز کو اپنے بارے میں کچھ بتانے سے گریز کرتے ہیں اور ان کا علاج اس وقت شروع ہوتا ہے جب ایچ آئی وی کی شدت میں کافی اضافہ ہوچکا ہوتا ہے، اور عموماً اس وقت وہ ٹی بی جیسے کسی مرض میں مبتلا ہوچکے ہوتے ہیں۔

ایڈز کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے مرض کے بارے میں بتانے میں شرم و جھجھک ،اور ان کے ساتھ امتیازی برتاؤ کے علاوہ معاشرتی اقدار ایچ آئی وی ایڈز کی روک تھام میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔

اس سال کے شروع میں اقوام متحدہ کے تحت ایک پروگرام کے نفاذ کے وقت ، جس کاتعلق جنسی امتیاز اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے خواتین اورلڑکیوں میں ایچ آئی وی کے خطرے میں اضافہ تھا، آرٹسٹ اور سرگرم کارکن اینی لیناکس نےاپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہاتھا کہ ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاؤ کا خطرہ درحقیقت خواتین میں اپنی عمر کے اس دور میں زیادہ ہوتا ہے جب ان میں افزائش نسل کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہی وہ گروپ ہے جس کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اگرچہ دنیا بھر میں اس انفکشن میں مبتلا افراد میں سے نصف تعداد خواتین اور لڑکیوں کی ہے، لیکن افریقہ میں ایچ آئی وی کے مریضوں میں سے 60 فی صد خواتین ہیں۔ جنوبی افریقہ میں نوجوان خواتین میں مردوں کی نسبت ایچ آئی وی ایڈز کا ہدف بننے کا خطرہ تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔

انتھونی فوسی کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے خواتین کوبااختیار بنانے کی ضرورت ہے۔کیونکہ ان میں سے اکثر ممالک میں خواتین کو وہ حقوق حاصل نہیں ہیں جس سے وہ خود کو ا س مرض سے محفوظ رکھ سکیں۔

صحت سے متعلق عہدے داروں کا کہناہے کہ ایڈز سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ غیرقانونی منشیات کے استعمال کو قانونی حیثیت دے دی جائے تاکہ ا سے استعمال کرنے والے صاف ستھری سرنجیں اور طبی سہولتیں حاصل کرسکیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے سزاؤں کی پالیسیاں ایڈز کے پھیلاؤ کے لیے جلتی پر تیل کا کام کررہی ہیں۔

عالمی راہنماؤں نے دنیا بھر میں ایچ آئی وی سے بچاؤ ، علاج اور دیکھ بھال تک رسائی حاصل کرنے کے لیے 2010ء کی ڈیڈ لائن طے کررکھی ہے۔

اگرچہ یہ تمام اہداف پورے نہیں ہوسکتے، لیکن ایڈز سے بچاؤ کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کو توقع ہے کہ انسانی حقوق پر توجہ مرکوز ہونے سے ایچ آئی وی میں مبتلا زیادہ افراد علاج معالجے کی سہولتیں حاصل کرسکیں گے اور اس مرض کو پھیلنے سے بہتر طورپر روکا جاسکے گا۔

XS
SM
MD
LG