رسائی کے لنکس

امریکی فضائیہ میں پائلٹوں کی کمی، عراق جنگ متاثر ہو سکتی ہے


اہف 22 طیارے دوران پرواز۔ (فائل فوٹو)

اہف 22 طیارے دوران پرواز۔ (فائل فوٹو)

امریکی ایئر فورس کو ساڑھے تین ہزار پائلٹ رکھنے کی اجازت ہے لیکن اس وقت اس کے پاس 725 لڑاکا پائلٹوں کی کمی ہے۔

کیرلا باب

ایک ایسے وقت میں جب کہ عراقی فورسز پچھلے مہینے سے موصل کا قبضہ واپس لینے کے لیے جنگ میں مصروف ہیں، امریکی ایف 22 رپٹر جیٹ طیاروں کے پائلٹ اسلامک اسٹیٹ کے ٹھکانوں پر حملے کررہے ہیں۔ لیکن ان فضائی کارروائیوں میں خلل پڑ سکتا ہے۔

امریکی ایئر فورس کا کہنا ہے کہ لڑاکا پائلٹوں کی اتنی شديد قلت پیدا ہوگئی ہے کہ جنگ کی ضروريات پوری کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

میجر جنرل اسکاٹ وینڈر ہیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ہمارے پاس جنگ میں مصروف کمانڈروں کی ضروريات کے لیے بہت تھوڑے اسکوارڈن ہیں۔

امریکی ایئر فورس کو ساڑھے تین ہزار پائلٹ رکھنے کی اجازت ہے لیکن اس وقت اس کے پاس 725 لڑاکا پائلٹوں کی کمی ہے۔ اس کمی کو وجہ سے ایئر فورس کو اپنے اسکوارڈن بھی کم کرنے پڑے ہیں۔ 1986 میں امریکہ کے پاس طیاروں کے 134 اسکوارڈن تھے جو 2016 میں گھٹ کر 55 ہو چکے ہیں۔

اب جب کہ پچھلے دس سال کے عرصے میں ملک کے اندر اور باہر ایئر فورس تعینات کرنے کی ضرورت میں اضافہ ہوا ہے، اس کے پاس ملکی اور غیر ملکی طلب پوری کرنے کی صلاحیت 20 فی صد تک گھٹ چکی ہے۔

میجر جنرل وینڈر ہیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ہمیں اگلے سال کے دوران اگلے محاذوں پر اپنے کچھ اسکوارڈن گھٹانے پڑ سکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں یہ قبول کرنا ہوگا کہ اس وقت ہم جنگ میں جن موقعوں پر فوج کی مدد کے لیے دستیاب ہوتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ پھر ہم دستیاب نہ ہوں۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ میں اس کا قیمت زندگیوں کی صورت میں چکانی پڑ سکتی ہے۔

ایک ہائی ٹیک طیارے کا پائلٹ تیار کرنے کے لیے کئی سال کی تربیت درکار ہوتی ہے، کیونکہ ان طیاروں کو کئی سپر کمپیوٹر وں کی مدد سے اڑایا جاتا ہے ۔

اس وقت ایئر فورس میں تقریباً 135 پائلٹ پچھلے دو سال سے تربیت حاصل کررہے ہیں، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ یہ تعداد گھٹ سکتی ہے کیونکہ کئی زیر تربیت پائلٹ ایئر فورس چھوڑنا چاہتے ہیں۔

امریکی ایئر فورس میں کم ازکم دس سال گذارنے پر ایک خصوصي بونس دیا جاتا ہے لیکن میجر جنرل وینڈر ہیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس سال صر ف 40 فی پائلٹوں نے یہ بونس لیا تھا۔

انہوں نے پائلٹوں کی ایئر فورس چھوڑنے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ ایک سابق پائلٹ نے، جس نے 2013 میں ایئر فورس چھوڑ دی تھی، اب واشنگٹن دی سی میں وکالت کرتا ہے اور اپنی ملازمت کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم کماتا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG