رسائی کے لنکس

تباہ ہونے سے پہلے ایئرایشیا کا طیارہ 'انتہائی رفتار سے بلند ہوا'


تباہ ہونے والے طیارے کا ملبہ

تباہ ہونے والے طیارے کا ملبہ

وزیر ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ راڈار کے ڈیٹا سے پتا چلتا ہے کہ ایئربس 320 تقریباً 1800 میٹر یعنی 5900 فٹ فی منٹ کی رفتار سے بلند ہو رہی تھی۔

انڈونیشیا کے وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ بحیرہ جاوا میں گر کر تباہ ہونے والے مسافر طیارے نے اس قدر تیز رفتاری سے بلندی کی جانب پرواز کی جس کے متحمل اس کے پر نہیں ہو سکتے تھے اور اسی بنا پر وہ فضا میں رک گیا اور پھر گر کر تباہ ہو گیا۔

وزیر اگناسیئس جونان نے منگل کو قانون سازوں کو بتایا کہ راڈار کے ڈیٹا سے پتا چلتا ہے کہ ایئربس 320 تقریباً 1800 میٹر یعنی 5900 فٹ فی منٹ کی رفتار سے بلند ہو رہی تھی۔

ان کے بقول معمول کے مطابق مسافر طیارے 980 سے 1970 فٹ فی منٹ کی رفتار سے بلندی کی جانب جانے کے متحمل ہوتے ہیں۔

28 دسمبر کو انڈونیشیا کے شہر سورابایا سے سنگاپور جاتے ہوئے ایئر ایشیا کی پرواز سمندر میں گر کر تباہ ہو گئی تھی۔ اس پر عملے سمیت 162 افراد سوار تھے جن میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچا۔

اس جہاز کو خراب موسم کا سامنا تھا اور جس پر پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرول سے اپنی سمت اور بلندی تبدیل کرنے کی اجازت مانگی جو اس پہلے اس بنا پر نہیں دی گئی کہ اس وقت وہاں دیگر طیارے بھی پرواز کر رہے تھے۔

انڈونیشیا کے محکمہ موسمیات کا بھی کہنا ہے کہ خراب موسم طیارے کی تباہی کی ایک وجہ ہو سکتا ہے۔

طیارے کا رابطہ ٹریفک کنٹرول سے ختم ہونے کے دو دن بعد اس کے ملبے کے کچھ حصوں کی نشاندہی بحیرہ جاوا میں ہوئی تھی۔

XS
SM
MD
LG