رسائی کے لنکس

طیارہ حادثہ : تحقیقات میں ائیربس کی ٹیم بھی شامل

  • ن ہ

طیارہ حادثہ : تحقیقات میں ائیربس کی ٹیم بھی شامل

طیارہ حادثہ : تحقیقات میں ائیربس کی ٹیم بھی شامل

” ائیر بلیو“ چاہے گی کہ اس افسوس ناک حادثے کی تحقیقات کو منظر عام پر لایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا تدارک کیا جاسکے۔

بین الاقوامی طیارہ ساز کمپنی ”ائیر بس “ کی ایک ٹیم نے پاکستان پہنچ کر اسلام آباد کے قریب مسافر طیارہ گرنے کے واقعے کی تحقیقات میں سوِل ایوی ایشن کے حکام کے مدد شروع کردی ہے۔

حادثے کا شکار ہونے والا مسافر طیارہ Airbus321 پاکستان کی نجی فضائی کمپنی ”ائیر بلیو“ کا تھا جو بدھ کی صبح کراچی سے اسلا م آباد پہنچنے کے بعد موسلا دھار بارش اور دھند میں وفاقی دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر اترنے کی کوشش میں مارگلہ کی ایک پہاڑی سے ٹکر ا کر تباہ ہو گیا۔ اس حادثے میں عملے کے چھ ارکان سمیت 152 افراد ہلاک ہو گئے۔

جمعے کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ”ائیر بلیو“ کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے تبایا کہ” ائیر بس“ کی بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم تحقیقات مکمل ہونے تک پاکستان میں ہی رہے گی۔

اُنھوں نے بتایا کہ جہاز کے ”بلیک بکس “ کی تلاش ابھی جاری ہے اور اگر یہ مل جاتا ہے تو اس کے اندر موجود معلومات تک رسائی کے لیے اسے یقینی طورپر بیرون ملک بھیجنا پڑے گا کیونکہ دنیا میں صرف دو یا تین ایسے مقامات ہیں جہاں بلیک باکس کا تجزیہ کرنے کی سہولت موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک نہ وہ خود کوئی قیاس آرائی کریں گے اور نہ ہی میڈیا کو ایسا کرنا چاہئیے کیونکہ اس سے لواحقین کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور حقائق پر بھی پردہ پڑتا ہے۔

شاہد خان عباسی (فائل فوٹو)

شاہد خان عباسی (فائل فوٹو)

اُنھوں نے کہا کہ” ائیر بلیو“ چاہے گی کہ اس افسوس ناک حادثے کی تحقیقات کو منظر عام پر لایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا تدارک کیا جاسکے۔ نجی کمپنی کے سربراہ کے بقول طیارے کے پائلٹ پرویز اقبال چوہدر ی ایک انتہائی قابل ہوا باز تھے اور ان کا شمار پاکستان کے گنے چنے ماہر پائلٹوں میں کیا جاتا تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ حادثے کا شکار ہونے سے پہلے طیارے میں کبھی کوئی تکنیکی خرابی سامنے نہیں آئی تھی۔

بارشوں کے باعث حادثے کے بعد پہلے دو روز کے دوران” بلیک باکس“ کی تلاش کا کام متاثر ہوا لیکن جمعہ کے روز مطلع صاف رہا لیکن سرکاری طور پر ”بلیک باکس“ کے ملنے یا نہ ملنے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG