رسائی کے لنکس

ایرپورٹوں پر سکرینگ: اب نئے طریقے استعمال کیے جائیں گے


ایرپورٹوں پر سکرینگ: اب نئے طریقے استعمال کیے جائیں گے

ایرپورٹوں پر سکرینگ: اب نئے طریقے استعمال کیے جائیں گے

اوباما انتظامیہ نے کہا ہے کہ امریکہ آنے والے مسافروں کی چھان بین کی طریقوں میں تبدیلی لائی جا رہی ہے اور اب اس مقصد کے لیے مخصوص سراغ راسانی کے طریقے استعمال کیے جائیں گے۔

جمعے کے روز اس نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے حکام نے کہا کہ مسافروں کو معلوم دہشت گردوں کی ان خصوصیات اور عادات و خصائل کی بنا پر پرکھا جائے گا، جو انٹیلی جنس اداروں نے پہلے ہی سے اکٹھی کر رکھی ہیں۔

مثال کے طور پر اگر انٹیلی جنس اہل کاروں کو پتا چلے کہ کسی مشتبہ شخص نے نائجیریا سے سفر کا آغاز کیا ہے اور مشرقِ وسطیٰ سے ہوتا ہوا امریکہ آ رہا ہے تو اس طرح کی معلومات ایک ڈیٹا بیس میں درج کی جائیں گی اور اس کا تبادلہ ہوائی کمپنیوں کی سیکیورٹی اہل کاروں کے ساتھ کیا جائے گا۔

اس کے بعد یہ اہل کار اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ جو شخص ان خصوصیات پر پورا اترتا ہے، اس کی مزید چھان بین کی جائے۔

اس نئے نظام کے تحت اس نظام کو تبدیل کیا جا رہا ہے جو گذشتہ سال کرسمس کے دن ایک نائجریائی شخص نے ایک امریکی جہاز کو تباہ کرنے کی کوشش کے بعد نافذ کیا گیا تھا۔ اس نظام میں پاکستان سمیت 14 ملکوں سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص کی زیادہ سخت جامہ تلاشی لی جاتی تھی۔

ایک اعلیٰ حکومتی افسر نے کہا ہے کہ نئے نظام کے تحت بے گناہ لوگ جامہ تلاشی سے بچ جائیں گے اور اس سے ہوائی اڈوں پر کام کا دباؤ بھی کم ہو جائے گا۔ T

تاہم نئے نظام میں بھی وہ "no-fly" فہرست برقرار رہے گی جس کے تحت مشتبہ دہشت گردوں کو ہوائی سفر نہیں کرنے دیا جاتا۔

XS
SM
MD
LG