رسائی کے لنکس

اعتزاز: والد، کزن سے گفتگو اور حکومت کا موقف


Aitezaz Hassan

Aitezaz Hassan

ہنگو میں خودکش حملہ آور کو اپنی زندگی کی قیمت پر ناکام بنانے والے جواں سال طالبعلم کے والد مجاہد بنگش اور کزن مدثر بنگش کی وی او اے اردو کے اسد حسن سے گفتگو اور حکومت کا موقف۔

’ اعتزاز حسن نے اپنی زندگی قربان کر کے بہت سی ماوں کو رونے سے بچا لیا ہے۔ اعتزاز ملک میں دہشتگردی کے واقعات پر دکھی رہتا تھا اورکہا کرتا تھا کہ ہم جیسے لوگوں کو بھی آگے بڑھ کر کوئی کردار ادا کرنا چاہیے‘‘ ان خیالات کا اظہار ہنگو میں گزشتہ روز ایک خودکش بمبار کو اس کے ہدف تک پہنچنے میں اپنی جان پر کھیل کر ناکام بنانے والے طالبعلم اعتزاز حسن کے والد مجاہد بنگش اور کزن مدثر بنگش نے وائس آف امریکہ اردو ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
اعتزاز کے والد مجاہد بنگش کا کہنا تھا کہ اس نے ہم سب کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعتزاز کی قربانی نے کئی ماوں کو رونے سے بچا لیا ہے کیونکہ اگر خدانخواستہ دہشتگرد اپنے ہدف ایک اسکول تک پہنچ جاتا تو بہت جانی نقصان ہو سکتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی تک حکومت کو کوئی عہدیدار ان کی دادرسی کے لیے نہیں آیا البتہ میڈیا کے نمائندوں اور علاقے کے لوگوں کا تانتا بندھا ہے۔
صوبہ خیبر پختونخواہ میں حکمران جماعت کے رہنما سراج محمد خان، جوپشاور سے قومی اسمبلی کے رکن ہیں، وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اعتزاز نے جو قربانی دی ہے تحریک انصاف اس کو قومی اسمبلی میں نمایاں کرے گی اور صوبائی انتظامیہ بھی اعتزاز کے گھر والوں کی دلجوئی کے لیے اقدامات لینے کا ارادہ رکھتی ہے اور بہت جلد صوبائی عہدیدار اس بارے میں تفصیلی پروگرام کے ساتھ سامنے آئیں گے۔
باہمت طالبعلم اعتزاز حسن کے کزن مدثر بنگش نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ اعتزاز ملک میں دہشتگردی کے واقعات پر اکثر دکھی ہو جایا کرتا تھا اور کہتا تھا کہ اس کے خاتمے کے لیے ہم سب کو آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اعتزاز اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا اور اس کی دونوں بہنیں، بھائی اور والدین کی آنکھوں میں آنسو ضرور ہیں مگر یہ شکرانے کے ہیں کہ اعتزازنے ان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

آڈیو انٹرویو سننے کے لئے نیچے دئے ہوئے لنک پر کلک کیجئے

XS
SM
MD
LG