رسائی کے لنکس

قائد اعظم محمد علی جناح کسی طور گاندھی سے کم سطح کے رہنما نہیں تھے۔ لیکن، کیا وجہ ہے کہ امریکہ میں لوگ قائد اعظم کے نام سےاس طرح واقف نہیں جس طرح گاندھی کے نام سے مانوس ہیں

میں گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانہ تلاش کرتے ہوئے سڑک کے کنارے نصب گاندھی جی کے مجسمے کا پاس پہنچ کر رک گیا۔ مجسمے کے ساتھ قدرے پرانی طرز تعمیر والی بلڈنگ کے باہر ایمبیسی کا بورڈ بھی نظر آگیا۔

میں اور میری ساتھی وردہ امریکہ میں بھارتی سفارتخانے کی تلاش اس احتجاج کی کوریج کے لیے کر رہے تھے، جو کشمیری امریکن کونسل کی طرف سے بھارت میں کشمیری رہنما محمد افضل گورو کو پھانسی دیے جانے کے خلاف ترتیب دیا ہوا تھا۔

احتجاج شروع ہونے سے پہلے گاندھی جی کے مجسمے کے پاس بیٹھے، یہ بات مشاہدہ میں آئی کہ وہاں سے گزرتے ہوئے، اکثر لوگ مجسمے کو غور سے دیکھتے اور اس کے بیس پر کندہ تحریر کو پڑھتے اور اس کی تصویر بنا کر آگے بڑھ جاتے۔

اس دوران، مجھے یاد آیا کہ دو ماہ قبل میں واشنگٹن ڈی سی میں ہی ’گاندھی برگیڈ‘ نامی ایک ادارے میں فوٹوگرافی سیکھنے گیا تھا، جو میڈیا سے متعلق مفت کورسز کرواتے ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی میں اکثر ممالک کے سفارت خانوں کے سامنے کوئی مجسمہ، بت یا نشان ضرور نصب کیا گیا ہے جو اس ملک کی پہچان ہوتا ہے۔

گذشتہ چھ ماہ کے دوران، مجھے محسوس ہوا کہ امریکہ میں لوگ قائد اعظم کے بارے میں اتنا نہیں جانتے جتنا گاندھی کے بارے میں جانتے ہیں۔

امریکہ کی مختلف ریاستوں میں گاندھی جی کے نام پر 22 سے زائد یادگاریں ہیں، جو ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

قائد اعظم محمد علی جناح کسی طور بھی گاندھی سے کم رتبے کے رہنما نہیں تھے۔ لیکن، کیا وجہ ہے کہ امریکہ میں لوگ قائد اعظم کے نام سےاس طرح واقف نہیں جس طرح گاندھی کے نام سے مانوس ہیں؟

اس طرح کی کوششیں اِس ملک میں موجود کوئی سفارتخانہ ہی کر سکتا ہے۔ لیکن، میں نے گذشتہ چھ ماہ کے دوران اکثر پاکستانیوں کو اپنے سفارتخانے سے شکوہ کرتے ہی سنا ہے۔

کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارتخانوں میں بانی پاکستان کے نام پر فنڈز مختص کر دیے جائیں، جو اس ملک میں پاکستان کے سافٹ امیج کو سامنے لانے کے لیے خرچ کیے جائیں۔

سیاسی سفارتکار اپنی سیاسی حکومتوں کی لابنگ پر لاکھوں ڈالر خرچ کرنے کے بجائے پاکستان اور بانی پاکستان کے افکار کو عام شہریوں تک پہنچانے کے لیے کام کریں اور یہ بتائیں کہ قائد کا پیغام اور افکار گاندھی جی سے کہیں زیادہ قیمتی اور مفید تھے۔


عبدل کا امریکہ(Facebook)

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG