رسائی کے لنکس

اسی گفتگو کے دوران ہم نے پاکستان میں سابق صدور یا سربراہان کا جائزہ لینا شروع کیا تو بڑی حیرت ہوئی کہ ہم اپنے سربراہان ِمملکت کو جانے کے بعد اتنی عزت کیوں نہیں دیتے؟

میرے ایک یونیورسٹی کے استاد جو آجکل ریاست انڈیانہ، امریکہ میں ہی زیر تعلیم ہیں، نے گذشتہ ہفتے مجھے مہمان نوازی کا شرف بخشا۔ ان کا واشنگٹن ڈی سی آنے کا مقصد صدر اوباما کی دوسری مدت ِصدارت کے حلف کے موقع پر واشنگٹن ڈی سی میں منعقدہ تقریب میں شرکت تھا۔


حلف کی تقریب سے قبل ہم امریکی دارلحکومت میں نیشنل مال پر پہنچے تو کیپٹل ہل کے بالکل سامنے واشنگٹن مونامنٹ (یادگار) ہے جو امریکہ کے پہلے صدر جارج واشنگٹن کے نام سے موصوم ہے۔ اس کو دیکھ کر آگے بڑھے تو امریکہ کے ایک اور سابق صدر ابرہام لنکن کی یادگار لنکن میموریل پر جا پہنچے۔ وہاں سے سیدھے ہاتھ آگے بڑھے تو امریکہ کےتیسرے صدر تھامس جیفرسن کی یادگار جیفرسن میموریل کے سامنے تھے۔

مزید آگے بڑھے تو فرینکلن روزویلٹ میموریل نظر آیا وہ بھی سابق امریکی صدر تھے۔ واپسی پر ٹرین پر بیٹھے تو ایک اورسابق امریکہ صدر ریگن کے نام سے موصوم ریگن نیشنل ائیر پورٹ کے قریب سے گزر رہے تھے۔


میں نے اپنے استاد محترم سے اس موضوع پر گفتگو کا آغاز کیا تو احساس ہوا کہ امریکہ میں سابق صدور کو کافی عزت دی جاتی ہے اور مجموعی طور پر چالیس سے زائد مقامات کو سابق صدور کے نام سے موصوم کیا گیا ہے یا ان کی یاد گار تعمیر کی گئی ہیں جبکہ ایک صدر کے نام سے ایک سے زائد یادگار بھی ہیں۔

اسی گفتگو کے دوران ہم نے پاکستان میں سابق صدور یا سربراہان کا جائزہ لینا شروع کیا تو بڑی حیرت ہوئی کہ ہم اپنے سربراہان مملکت کو جانے کے بعد اتنی عزت کیوں نہیں دیتے؟

ایک بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح پر پاکستانی قوم متفق ہے لیکن ایک سیاسی جماعت اسے بھی متنازع بنانا چاہتی ہے۔ کچھ صدور تو زبردستی اس منصب پر فائز ہوتے ہیں اور بعض کو اچھے طریقے سے رخصت نہیں کیا جاتا۔


امریکی صدر بارک اوباما کی تقریب حلف برداری میں عوام کا جوش و جروش دیدنی تھا۔ امریکہ کی ہر ریاست سے عوام اپنے صدر کو حلف اٹھاتے دیکھنے آئے تھے۔ تقریباً ایک ملین افراد اپنے ہاتھوں میں امریکی پرچم لیے صدر کو دیکھ رہے تھے جو ملک سے وفاداری کا حلف لے رہا تھا۔

تقریب کے بعد پریڈ میں مجھے ایک امریکی کلاس فیلو نے پوچھا کہ آپ کے صدر کس طرح حلف لیتے ہیں؟ میں نے سیکورٹی کا بہانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہم ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔ اس کا اگلا سوال تھا کہ جس طرح امریکہ میں ہرچار سال بعد بیس جنوری کو صدر حلف اٹھاتا ہے آپ کے ملک میں کیا تاریخ مقرر ہے میں نے جواب دیا کہ ہم جمہوری ملک ہیں اکثر حکومتیں آئینی مدت پوری نہیں کرتی اور صدر کو بھی جانا پڑتا ہے۔

اس نے پھر پوچھا کہ پاکستان کے سابق صدور رخصت ہونے کے بعد کیا کرتے ہیں؟ میں نے فوراً موضوع بدلنے کے لیے سامنے سے نمودار ہونے والے صدر کے قافلے کی طرف اشارہ کیا


اس کا اگلا سوال تھا کہ کیا آپ صدر کے حلف والے دن امریکہ کی طرح عام تعطیل کرتے ہیں تو میرا جواب تھا کہ نہیں ہم اس دن چھٹی نہیں کرتے اور اس طرح پریڈ صرف یوم آزادی والے دن کرتے ہیں۔ اس کے سوالات کا سلسلہ نہ ختم ہوا۔


اس نے پھر پوچھا کہ پاکستان کے سابق صدور رخصت ہونے کے بعد کیا کرتے ہیں؟ میں نے فوراً موضوع بدلنے کے لیے سامنے سے نمودار ہونے والے صدر کے قافلے کی طرف اشارہ کیا جو ہاتھ جلاتے ہوئے کیپٹل ہل سے وائٹ ہاوس کی طرف جا رہے تھے ۔۔۔ کیوں کہ میں اسے یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ ہمارے ملک میں سابق صدور کی تاریخ اتنی دلفریب نہیں جتنا کہ اس کے ملک امریکہ کے صدور کی ہے۔
XS
SM
MD
LG