رسائی کے لنکس

حکومت سے اِن کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے، صومالی صحافیوں کی قومی یونین نے مطالبہ کیا ہے کہ حمزہ نے اُنھیں بتایا کہ وہ اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کی غرض سے موغادیشو سے باہر گئے تھے

صومالی حکام نے الجزیرہ سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی حمزہ محمد، بشمول سہولت کار اور کیمرا مین کو گرفتار کیا ہے، اُس وقت جب وہ الشباب کے شدت پسندوں کے زیر کنٹرول علاقے سے ہو کر دارالحکومت واپس پہنچے۔

صومالی صحافیوں کی قومی یونین کے سکریٹری جنرل، محمد ابراہیم معلمو نے بدھ کے روز اِن تینوں افراد سےجیل میں ملاقات کی۔

حکومت سے اِن کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے، معلمو نے کہا ہے کہ حمزہ نے اُنھیں بتایا کہ وہ اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کی غرض سے موغادیشو سے باہر گئے تھے، اور یہ کہ واپسی پر اُنھیں ’نیشنل انٹیلی جنس اینڈ سکیورٹی ایجنسی‘ سے تعلق رکھنے والی افواج نے گرفتار کیا۔

’وائس آف امریکہ‘ کی صومالی سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے، اطلاعات کے وزیر محمد عبدی ماریے نے اِس بات کی تصدیق کی کہ تین صحافیوں کو گرفتار کیا گیا ہے، اور یہ کہ سکیورٹی فورسز اُن سے پوچھ گچھ کر رہی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’جہاں تک ہم اِن صحافیوں کو جانتے ہیں، وہ حکومت، وزارتِ اطلاعات اور سلامتی کے اداروں کو بغیر بتائے ملک میں داخل ہوئے، پھر وہ دہشت گردوں کے زیر قبضہ خطے میں گئے، جہاں اُن کی آؤ بھگت ہوئی‘‘۔

بقول اُن کے ’’اُن سے پوچھا جائے گا آیا وہ ملک میں کس طرح داخل ہوئے، اُنھوں نے دہشت گرد تنظیم کے رہنماؤں سے کس طرح رابطہ کیا اور وہ اِن دور افتادہ علاقوں میں کن افراد سے ملے‘‘۔

ماریے نے الشباب کے رہنماؤں کی شناخت ظاہر کرنے سے گریز کیا، جن سے مبینہ طور پر یہ صحافی ملے۔ لیکن، اُنھوں نے کہا کہ صومالی حکومت ’’دہشت گردوں کے پروپیگنڈے کو ایک جرم‘‘ سمجھتی ہے۔

XS
SM
MD
LG