رسائی کے لنکس

الظواہری کی مغربی ملکوں پر حملوں کی نئی اپیل


فائل

فائل

الظواہری نے کہا کہ وہ داعش کی جانب سے خلافت کے قیام کے دعوے کو غیر شرعی سمجھتے ہیں لیکن شام اور عراق میں مغربی اور سیکولر طاقتوں کے خلاف داعش کے ساتھ مل کر لڑنے کو تیار ہیں۔

القاعدہ کے روپوش سربراہ ایمن الظواہری نے امریکہ اور دیگر مغربی ملکوں میں مقیم مسلمان نوجوانوں سے اپنے ملکوں میں دہشت گرد حملے کرنے کی اپیل کی ہے۔

انٹرنیٹ پر جاری کیے جانے والے اپنے نئے آڈیو بیان میں القاعدہ سربراہ نے کہا ہے کہ وہ "صلیبی اتحاد" کے رکن ملکوں کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھنے والے تمام مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہرگز نہ ہچکچائیں۔

اپنے پیغام میں الظواہری نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ جنگ کو "صلیبی مغرب خصوصاً امریکہ" کے شہروں اور گھروں تک پہنچادیا جائے۔

اتوار کو جاری کی جانے والی آڈیو ٹیپ میں القاعدہ سربراہ نے مغربی ملکوں میں مقیم مسلمان نوجوانوں سے کہا ہے کہ وہ بوسٹن میراتھن کے دوران بم دھماکے کرنے والے سارنیف برادران اور پیرس میں 'شارلی ہیبڈو' کے دفتر میں فائرنگ کرنے والے کوچی برادران جیسوں کے نقشِ قدم پر چلیں۔

آڈیو بیان میں ایمن الظواہری نے افغان طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر کا تذکرہ اس طرح کیا ہے جیسے وہ زندہ ہوں، جس سے پتا چلتا ہے کہ آڈیو کم از کم دو ماہ قبل ریکارڈ کی گئی۔

یاد رہے کہ افغان طالبان نے رواں سال جولائی میں ملا محمد عمر کے انتقال کی خبروں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان سربراہ دو سال قبل انتقال کرگئے تھے۔

ملا عمر کے انتقال کی تصدیق کے اور طالبان کی جانب سے ملا اختر منصور کو ان کا جانشین منتخب کرنے کے اعلان کے بعد ایمن الظواہری نے اسی نوعیت کے اپنے ایک آڈیو پیغام میں طالبان تحریک کے نئے امیر کی بیعت کا اعلان بھی کیا تھا۔

القاعدہ، افغان طالبان کی سب سے پرانی اور مضبوط ترین اتحادی ہے اور دونوں تنظیموں اور ان کے رہنماؤں کے درمیان گزشتہ دو دہائیوں سے قریبی روابط ہیں۔

سنہ 1980ء کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ میں شرکت کرنے والے عرب جنگجووں نے جنگ کےخاتمے پر القاعدہ کی بنیاد ڈالی تھی جس نے 1996ء سے 2001ء تک جاری رہنے والے طالبان دورِ حکومت کے دوران اپنی جڑیں مضبوط کی تھیں۔

اتوار کو جاری کیے جانے والے آڈیو بیان بیان میں القاعدہ سربراہ نے حریف شدت پسند تنظیم داعش پر تنقید کو دہراتے ہوئے ایک بار پھر مسلمان شدت پسندوں سے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔

الظواہری نے کہا کہ وہ داعش کی جانب سے خلافت کے قیام کے دعوے کو غیر شرعی سمجھتے ہیں لیکن شام اور عراق میں مغربی اور سیکولر طاقتوں کے خلاف داعش کے ساتھ مل کر لڑنے کو تیار ہیں۔

اپنے بیان میں القاعدہ سربراہ نے شام اور عراق میں سرگرم مسلمان شدت پسند تنظیموں سے متحد ہونے کی اپیل کرتے ہوئے ان تنظیموں کو اپنے اختلافات کے حل کے لیے ایک آزاد شرعی عدالت کےقیام کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

XS
SM
MD
LG