رسائی کے لنکس

کراچی: القاعدہ کی مالی معاونت کے الزام میں ایک شخص گرفتار


ایس ایس پی نوید خواجہ

ایس ایس پی نوید خواجہ

ایس ایس پی کے مطابق، ملزم شیبہ احمد بینکر اور بزنس مین ہونے کے ساتھ ساتھ مساجد میں درس بھی دیتا رہا ہے۔ ایک خفیہ تنظیم چلانے کے حوالے سے بھی اسی کا نام لیا جا رہا ہے، جبکہ، بقول نوید خواجہ ملزم جنوبی ایشیا میں سرگرم القاعدہ کی شاخ کا اہم رْکن بھی ہے

کراچی ۔۔۔ محکمہ انسداد دہشت گردی نے کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس سے القاعدہ کی مبینہ مالی معاونت کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔

ایس ایس پی نوید خواجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار شخص کا نام شیبہ احمد ہے جس نے صفورا گوٹھ کے سانحے میں ملوث ملزمان کا ’برین واش‘ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی مالی اعتبار سے بھی مدد کی تھی۔

بدھ کو کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران نوید خواجہ نے بتایا کہ شیبہ احمد روشن خیالات رکھتا تھا۔ لیکن، پھر اچانک اس نے القاعدہ کے غلط نظریئے کو اپنے لئے راہ نجات بنا لیا؛ اور ڈیفنس میں ہی رہتے ہوئے القاعدہ کے لیے چندہ اکھٹا کرنا شروع کردیا۔

ایس ایس پی کے مطابق، ملزم شیبہ احمد بینکر اور بزنس مین ہونے کے ساتھ ساتھ مساجد میں درس بھی دیتا رہا ہے۔ ایک خفیہ تنظیم چلانے کے حوالے سے بھی اسی کا نام لیا جارہا ہے، جبکہ، بقول ایس ایس پی نوید خواجہ، ملزم جنوبی ایشیاء میں سرگرم القاعدہ کی شاخ کا اہم رْکن بھی ہے۔

مقامی میڈیا نے شیبہ احمد کی گرفتاری کو نمایاں انداز سے کوریج دی ہے، جبکہ کچھ ٹی وی چینلز جیسے ’جیو نیوز‘ نے اس پر خصوصی رپورٹس بھی پیش کی ہیں۔

ان میڈیا رپورٹس میں ایس ایس پی نویدخواجہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ شیبہ احمد کو ڈیفنس کے علاقے سے حراست میں لیا گیا، جہاں وہ ایک ہزار گز کے وسیع و عریض بنگلے میں کرائے پر رہائش پذیر تھا اور محلے والے تک اس کی سرگرمیوں سے لاعلم تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس کے گھر میں ایک تہہ خانہ بھی تھا جہاں سے بڑی تعداد میں مختلف کیمیکلز ملے ہیں۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ملزم پاکستان اور پڑوسی اسلامی ملکوں سے کیمیکل کا کاروبار کرتا تھا، جبکہ وہ دنیا کے متعدد ممالک کا دورہ بھی کرچکا ہے۔

ایس ایس پی نوید خواجہ کا کہنا ہے کہ شیبہ احمد خود دہشت گردی کی وارداتوں میں حصہ نہیں لیتا تھا، بلکہ مالی معاونت کرتا تھا۔

ملک کے کچھ اور موقر اخبارات، جیسے روزنامہ جنگ ، ایکسپریس، ٹری بیون اور ڈان نے بھی شیبہ احمد کی گرفتاری سے متعلق رپورٹس شائع کی ہیں۔ انہی میں سے ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شیبہ احمد نے طالبان کی مالی امداد کا بھی اعتراف کیا ہے۔

روزنامہ ڈان نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ شیبہ پاکستان اور ایران میں واقع دو کیمیکل فیکٹریوں کا مالک ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیاہے کہ انسداد دہشت گردی کا محکمہ شیبہ احمد کے داعش سے تعلقات کی بھی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔

XS
SM
MD
LG