رسائی کے لنکس

القاعدہ کی سعودی عرب کو دھمکی


سعودی عرب اس سال مئی میں امام علی مسجد میں بم حملے کے بعد کا ایک منظر

سعودی عرب اس سال مئی میں امام علی مسجد میں بم حملے کے بعد کا ایک منظر

تنظيم القاعدہ فی جزيرة العرب نے اپنے بیان کہا ہے کہ وہ سعودی جیلوں میں قید القاعدہ کے ارکان کو سزائے موت دینے کے سعودی ارادوں سے باخبر ہے اور اس کا جواب دے گی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک بیان میں یمن میں القاعدہ سے وابستہ ایک تنظیم نے قیدیوں کو اجتماعی سزائے موت دینے کے منصوبے پر سعودی حکومت کو دھمکی دی ہے۔ ان قیدیوں میں القاعدہ کے ارکان بھی شامل ہیں۔

تنظيم القاعدہ فی جزيرة العرب نے اپنے بیان کہا ہے کہ وہ سعودی جیلوں میں قید القاعدہ کے ارکان کو سزائے موت دینے کے سعودی ارادوں سے باخبر ہے اور اس کا جواب دے گی۔

تنظیم نے ٹوئیٹر پر اپنے بیان میں منگل کو کہا کہ ’’قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہمارا خون ہمارے قید ساتھیوں کے خون سے پہلے گرے گا۔۔۔‘‘

گزشتہ ہفتے مقامی میڈیا نے خبر دی تھی کہ سعودی حکام ’’دہشت گردی کے جرائم‘‘ میں 50 سے زائد سزا یافتہ مجرموں کو اجتماعی طور پر سزائے موت دینے کا سوچ رہے ہیں۔

سعودی عرب میں گزشتہ ایک سال کے دوران شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ شام اور عراق میں مقیم داعش کے شدت پسندوں نے مسجدوں میں بم حملوں اور فائرنگ کے واقعات کی ذمہ داری قبول کی۔

اس سال چاڈ سے تعلق رکھنے والے القاعدہ کے صرف دو ارکان کو سعودی عرب میں حملے کرنے کے الزام میں سزائے موت دی گئی۔ گزشتہ دس سال کے دوران ہونے والے ان حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سعودی عرب نے اس سال کم از کم 151 افراد کو سزائے موت دی ہے جن میں بہت سے افراد منشیات سے متعلق جرائم میں سزا پانے والے غیر ملکی تھے۔

آخری مرتبہ 1979 میں شدت پسندوں کے ایک گروہ کی طرف سے خانہ کعبہ پر قبضے کے بعد سزا پانے والے مجرموں کو سعودی عرب میں اجتماعی سزائے موت دی گئی تھی۔

XS
SM
MD
LG