رسائی کے لنکس

چھ یمنی یرغمالی القاعدہ کے ہاتھوں قتل


فائل فوٹو

فائل فوٹو

عینی شاہدین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ القاعدہ نے یرغمال بنائے گئے حوثی باغیوں کو درسعد میں بدھ کی دوپہر کو قتل کیا۔

یمن کے سکیورٹی حکام اور عینی شاہدین نے کہا کہ القاعدہ جنگجوؤں نے چھ شیعہ حوثی یرغمالیوں کو عدن کے شمال میں واقع ایک شہر میں سرعام گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

عینی شاہدین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ القاعدہ نے یرغمال بنائے گئے حوثی باغیوں کو درسعد میں بدھ کی دوپہر کو قتل کیا۔

گولی چلانے سے پہلے یرغمالیوں کو زمین پر جھک کر اپنے ہاتھوں کو چومنے کا کہا گیا۔ ان کی عمریں بیس سے تئیس سال کے درمیان تھیں۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ایک باغی نے التجا کی کہ اسے چھوڑ دیا جائے کیونکہ وہ اپنے خاندان کا واحد کفیل ہے، مگر القاعدہ کے جنگجو نے جواب دیا، ’’خاموش ہو جاؤ کتے‘‘ اور ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگا کر فائرنگ شروع کر دی۔

دریں اثنا جنوبی صوبے ابین میں ایک مبینہ ڈرون حملے میں القاعدہ کے پانچ شدت پسند مارے گئے ہیں۔ سکیورٹی حکام اور قبائلیوں کے مطابق یہ حملہ المہفد ضلع میں ان کی گاڑی پر کیا گیا تھا۔

سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے جنگ بندی کے یک طرفہ اعلان کے باوجود یمن میں لڑائی جاری ہے۔ اس جنگ بندی کا مقصد کئی ماہ سے جاری لڑائی میں تؤقف کے دوران انتہائی ضروری انسانی امداد فراہم کرنا تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ القاعدہ جنگجوؤں نے اس ہفتے کے اوائل میں عدن میں انسانی امداد فراہم کرنے والی تنظیم ’کیئر انٹرنیشنل‘ کے دفتر پر حملہ کیا تھا۔ کئیر کے حکام نے ایک ای میل میں بتایا کہ نامعلوم افراد دفتر سے دو کاریں لے گئے۔

مقامی ملیشیا کے حکام نے الزام لگایا ہے کہ القاعدہ کے جنگجو باغیوں کے خلاف فورسز کی حالیہ پیش قدمی کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، جنہوں نے اس ماہ حوثیوں کو عدن سے نکال دیا تھا اور اس کے مضافات میں پیش قدمی کر رہی ہیں۔ حوثی اور ان کے اتحادی اب بھی دارالحکومت صنعا پر اور ملک کے بیشر شمالی علاقوں پر قابض ہیں۔

XS
SM
MD
LG