رسائی کے لنکس

القاعدہ کےسینئر لیڈر اورچاردیگر افراد پر الزامات عائد


فائل فوٹو

فائل فوٹو

امریکی محکمہٴ انصاف نےامریکہ اوربرطانیہ میں اہداف پرحملوں کی القاعدہ کی سازش میں ملوث پانچ مبینہ ارکان کے خلاف الزامات عائد کردیے ہیں، جس سازش میں2009ء کے نیویارک سٹی سب وے نظام کو اُڑانے کی ناکام منصوبہ بندی کرنا شامل ہے۔

منگل کو محکمہٴ انصاف کی طرف سےعدالت میں پیش کردہ فردِ جرم میں القاعدہ کے ایک سینئرلیڈرعدنان الشکری جمعہ، اورچار دوسروں کے نام شامل ہیں۔

فردِ جرم کے مطابق، شکری جمعہ اور دوسرے ملزمان نےافغان نژاد نجیب اللہ زازی اورمنصوبے میں شریک اُن کے ساتھی کو بھرتی کیا۔ وہ گذشتہ سال 11ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں کی برسی کے موقعے پر نیو یارک کے سب وے نظام پر خودکش حملہ کرنے والے تھے۔

محکمہٴ انصاف کا کہنا ہے کہ 34سالہ شکری جمعہ، جو سعودی عرب کے باشندے ہیں، القاعدہ کی بیرونِ ملک کارروائیوں کی منصوبہ بندی سے وابستہ ہیں۔ ایف بی آئی کی طرف سے اُنھیں پکڑنے کی کوشش کوناکام بناتے ہوئے وہ چار برس تک روپوش رہے۔

سزا ہونے کی صورت میں پانچوں ملزمان کو زیادہ سے زیادہ عمر قید ہو سکتی ہے۔

محکمہٴ انصاف نے بتایا ہے کہ الزامات سے پتا چلتا ہے کہ زازی نہ صرف پاکستان میں سینئر القاعدہ کے لیڈروں سے رابطے میں تھے بلکہ إِس سازش کے تانے بانے برطانیہ میں مغربی اہداف پر حملوں کے ایک اور کیس سے جا کر ملتے ہیں۔

ستمبر میں گرفتاری کے بعد، زازی نے بڑے پیمانےپرتباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے استعمال کے الزام پر اقبالِ جرم کر چکے ہیں۔ اپریل میں دوسرے ملزم زرین احمدزئی نے بھی دہشت گردی کے الزامات میں اقبالِ جرم کر لیا تھا۔

استغاثے کا کہنا ہےکہ اپنےساتھیوں کے ساتھ ایک برس سےزازی حملے کی منصوبہ بندی کرتا رہا۔ امریکی حکومت کے الزام کے مطابق اُنھوں نے اپنی سازش کو بڑھاوا دینے کے لیے10ستمبر کو نیو یارک کا سفر کیا۔ اُنھیں 19ستمبرکو کولوراڈو میں گرفتار کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG