رسائی کے لنکس

الشباب کے کرتا دھرتا کی داعش کے حامی لڑاکوں کو دھمکی


شبیل کے زیریں خطے میں الشباب کے سربراہ، ابو عبداللہ نے گروہ کے نچلی سطح کے ساتھیوں کو کھلا انتباہ جاری کیا ہے۔ بقول اُن کے، ’اگر داعش کی حمایت کروگے، تو آپ کو زبردستی ہٹایا جائے گا‘

کئی ماہ سے صومالی شدت پسند گروپ الشباب کی صفوں کے اندر کشمکش جاری ہے آیا طویل مدت کے اتحادی القاعدہ سے تعلق توڑ کر داعش کی حمایت کی جائے۔

تنازعے نے اس ہفتے اُس وقت شدت اختیار کی جب شباب کے لڑاکوں کی گروپ کے معروف اہل کاروں کے ساتھ جھڑپ ہوئی جس میں گروہ کا ایک رہنما شیخ حسین عبدی غیدی ہلاک ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ اُنھوں نے ہمدردیاں تبدیل کرنے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی تھیں۔ حملے میں دیگر چار ارکان بھی ہلاک ہوئے۔

اب، شبیل کے زیریں خطے میں الشباب کے سربراہ، ابو عبداللہ نے گروہ کے نچلی سطح کے ساتھیوں کو کھلا انتباہ جاری کیا ہے۔ بقول اُن کے، ’اگر داعش کی حمایت کروگے، تو آپ کو زبردستی ہٹایا جائے گا‘۔

پیر کے روز گروہ کے میڈیا سے متعلق حلقے سے بات کرتے ہوئے، عبداللہ نے کہا کہ ’شباب نے اپنے اندر اتحاد کا دفاع کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘۔

بقول اُن کے، ’ایک امیر کی ماتحتی میں، گروپ متحد ہے، اچھے اور برے وقت میں ہم اُنہی کی حمایت کریں گے‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’اگر آپ کا تعلق کسی دوسرے گروہ سے ہے تو اُسی طرف رُخ کریں۔ اگر آپ کا جھنڈا مختلف ہے تو اُسے دوسری طرف جا کر لہرائیں۔ اگر ہمارے سے تعلق نہیں تو دور رہیں، کیونکہ سر قلم کیا جانا واجب ہو گیا ہے، باوجود اس کے کہ آپ نے داڑھی رکھی ہوئی ہو‘۔

عبداللہ مذاق نہیں کر رہے تھے۔ سولہ نومبر کو ساکو کے قصبے کے قریب دھڑے بندی پر ہونے والے فساد میں ایک اور مبینہ کمانڈر شیخ بشیر ابو نعمان اور آٹھ دیگر افراد ہلاک ہوئے۔

سنہ 1990سے الشباب کے القاعدہ سے گہرے مراسم رہے ہیں، جب اس دہشت گرد نیٹ ورک نے افغانستان اور پاکستان میں واقع اپنے کیمپوں میں الشباب کے زیادہ تر معروف رہنماؤں کو تربیت فراہم کی تھی۔ سنہ 2012میں باضابطہ طور پر دونوں گروپ ضم ہوگئے تھے۔

XS
SM
MD
LG