رسائی کے لنکس

غداری کا الزام، الشباب کی اپنے ہی ارکان کے خلاف کارروائی


فائل

فائل

گولی مارنے اور سولی پر لٹکانے کی وارداتوں کو الشباب کی ویب سائٹ پر دکھایا گیا ہے۔ انتہاپسند گروپ کی جانب سے سماجی میڈیا پر جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، ’بے‘ کے علاقے میں چار افراد کو ٹکٹکی پر چڑھایا گیا، جن پر صومالیہ، کینیا اور امریکی انٹیلی جنس کے اداروں کے لیے جاسوسی کا الزم تھا

صومالیہ میں الشباب کے شدت پسندوں نے کہا ہے کہ داعش سے غداری اور تنظیم کے خلاف سرگرمیوں کے الزام پر اُس نے اپنے ہی مزید دو ارکان کا سر قلم کردیا ہے، جنھیں کینیا میں بھرتی کیا گیا تھا۔

مقامی مکینوں نے ’وائس آف امریکی‘ کی صومالی سروس کو بتایا کہ کینیا کے اِن دونوں ارکان کو اُسی وقت ہلاک کیا گیا جب جمعے کے روز صومالیہ کے وسطی جوبہ کے خطے میں ایک صومالی شخص کو پھانسی دی جارہی تھی۔

سولی پر لٹکانے کی وارداتوں کو الشباب کی ویب سائٹ پر دکھایا گیا ہے۔

انتہاپسند گروپ کی جانب سے سماجی میڈیا پر جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، ’بے‘ کے علاقے میں چار افراد کو ٹکٹکی پر چڑھایا گیا، جن پر صومالیہ، کینیا اور امریکی انٹیلی جنس کے اداروں کے لیے جاسوسی کا الزم ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ چار میں سے ایک پر ستمبر 2014ٗ میں ہونے والے ایک ڈروں حملے میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے کا الزم تھا، جس میں الشباب کا سرغنہ، احمد عبدی غودانی ہلاک ہوا، جنھیں ابو زبیر کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔

دونوں کینیائی لڑاکوں کو جبلب قصبے میں پھانسی دی گئی، جن کی الشباب کی ویب سائٹ پر عبداللہ عبدالحامد فراج اور جرید موکائی یمامبیہ کے طور پر شناخت ظاہر کی گئی ہے۔

سہولت کار کا الزام

’وائس آف امریکہ‘ کی صومالی سروس نے خبر دی ہے کہ فراج کا تعلق کینیا کے شہر ممباسا سے تھا۔ اُن پر کینیا میں اسلام کی تبلیغ کرنے والوں کی ہلاکت میں ’’سہولت کار‘‘ کا کردار ادا کرنے کا الزام تھا۔ یمامبیہ کا تعلق مغربی کینیا میں واقع ادوریت شہر سے تھا۔ اُن پر کینیا کے انسدادِ دہشت گردی کے پولیس دستے کے ساتھ مراسم کا الزام تھا۔

جمعے کو ’بے‘ کے علاقے میں واقع بولو فے گائوں میں دی گئی اجتماعی پھانسی کے موقے پر26 سالہ محمد عدن نور حسن کا سر قلم کیا گیا۔ الشباب کی ویب سائٹ پر بتایا گیا ہے کہ اُن پر اہم اطلاع فراہم کرنے کی سازش کا الزام تھا جس کے باعث الشباب کا کمانڈر، غودانی/زبیر ہلاک ہوا۔

الشباب کا کہنا ہے کہ 27 برس کےمحی الدین حیراب احمد پر نیروبی میں ویسٹ گیٹ مال کے دہشت گرد حملے میں لیڈر سے غداری کا الزام تھا؛ جب کہ فائرنگ اسکواڈ نے فوری طور پر دو دیگر افراد کو موت کے گھاٹ چڑھا دیا، جونہی اُنھیں قصور وار قرار دیا گیا۔

انتہاپسندوں نے الشباب کے ایک’’جج‘‘ کی وڈیو شائع کی ہے جس میں وہ حسن کے خلاف اپنا فیصلہ سنا رہا ہے۔ جج نے کہا کہ حسن نے اطلاع فراہم کی تھی جس کے نتیجے میں امریکی افواج کو اُس مقام کا علم ہوا جہاں شدت پسندوں کا سابق سرغنہ، زبیر چھپا ہوا تھا، جس پر اُس کی موت واقع ہوئی۔

حسن پر الزام تھا کہ ڈرون حملوں میں سہولت کار بنا جن میں الشباب کے چوٹی کے دو کمانڈر دسمبر 2014ٗ میں ہلاک ہوئے جن کے نام امنیت اور کمانڈر عبد الشکور تحلیل تھے، جب کہ اس کے بعد فروری میں شدت پسند تنظیم کی بیرونی کارروائیوں کا سربراہ یوسف دیغ ہلاک ہوا۔

XS
SM
MD
LG