رسائی کے لنکس

شام کے سب سے بڑے شہر اور اقتصادی مرکز حلب پر سرکاری افواج کے طیاروں کی بمباری سے تین بچوں سمیت کم از کم پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

شام کے سب سے بڑے شہر اور اقتصادی مرکز حلب پر سرکاری افواج کے طیاروں کی بمباری سے تین بچوں سمیت کم از کم پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

لندن میں قائم شامی حزبِ اختلاف کی حامی تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے مطابق شامی افواج کے جنگی طیاروں نے پیر کو علی الصباح حلب کے جنوبی علاقے پر بم برسائے جس سے دو عمارتیں تباہ ہوگئیں۔

ایک عینی شاہدکی جانب سے بنائی گئی ویڈیومیں بمباری سے محفوظ رہنے والے افراد اور دیگر لوگوں کو تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ ہٹاتے دکھا یا گیا ہے۔

دریں اثنا شام کے شہر حما پر بھی سرکاری افواج کی مزید بمباری اور باغیوں کے ساتھ نئی جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ عرب ٹی وی نیٹ ورک 'الجزیرہ' نے شہر کی ایک ویڈیو نشرکی ہے جس میں شہر کے بعض علاقوں سے دھواں اٹھتے دیکھا جاسکتا ہے۔

شام میں تشدد کی یہ تازہ کاروائیاں ایک ایسے وقت میں ہورہی ہیں جب شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی لخدار براہیمی سلامتی کونسل کو خطے کے اپنے حالیہ دورے کی تفصیلات سے آگاہ کرنے والے ہیں۔

لخدار براہیمی نے رواں ماہ خطے کے دیگر ممالک کے علاوہ شام کا دورہ بھی کیا تھا جہاں انہوں نے شامی صدر بشار الاسد اور حزبِ اختلاف کے نمائندوں سے مذاکرات کیے تھے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سربراہی اجلاس منگل سے نیویارک میں شروع ہورہا ہے اور امکان ہے کہ شام میں جاری سیاسی بحران اجلاس کے موضوعات میں سرِ فہرست رہے گا۔

اس عرب ملک میں گزشتہ 18 ماہ سے جاری کشیدگی کے دوران میں حکومتی افواج کی کاروائیوں اور باغیوں کے حملوں میں اب تک 20 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG