رسائی کے لنکس

الطاف حسین اسپتال سے پولیس اسٹیشن منتقل


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ الطاف حسین کی طرف سے قانونی معاونت کی درخواست پر حکومت ہر ممکن مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کو جمعہ کو اسپتال سے دوبارہ پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا گیا۔ اسپتال میں اُن کے طبی تجزیے اور معائنہ کیا گیا۔

گزشتہ منگل کو لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس نے انھیں منی لانڈرنگ کے ایک کیس میں پوچھ گچھ کے لیے تحویل میں لیا تھا لیکن بعد ازاں ناسازی طبع کی وجہ سے انھیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

اُدھر پاکستان نے کہا ہے کہ سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے لندن میں موجود قائد الطاف حسین کے قانونی ماہرین نے تاحال حکومت پاکستان سے قانونی مدد کے لیے رابطہ نہیں کیا اور اگر ایسی کوئی درخواست کی جاتی ہے تو حکومت ان کی ہر ممکن مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔

جمعہ کو اسلام آباد میں ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں بتایا کہ اگر الطاف حسین نے پاکستان واپس آنے کا ارادہ ظاہر کیا تو وزارت خارجہ حکومت کی ہدایت کے مطابق عمل کرے گی۔

جمعرات کو لندن میں پاکستان کے قائم مقام ہائی کمشنر محمد عمران مرزا نے الطاف حسین سے اسپتال میں 20 منٹ تک ملاقات بھی کی تھی۔

الطاف حسین 1992ء سے لندن میں مقیم ہیں اور ان کے پاس برطانیہ کی شہریت بھی ہے۔ اپریل میں انھوں نے پاکستان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوانے کے لیے کاغذات جمع کروائے تھے لیکن ان کے بقول حکومت ان کے اجراء میں غیرضروری تاخیر کرتی رہی۔

تاہم حکومتی عہدیداروں نے اس تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام متعلقہ کارروائی مکمل ہونے پر دستاویزات جاری کر دی جائیں گی۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اقتصادی مرکز کراچی کی سب سے بااثر جماعت تصور کی جاتی ہے اور الطاف حسین کی گرفتاری کی خبر آتے ہی اس کے کارکنوں نے شہر میں دھرنا دیا جو اب بھی جاری ہے۔ جمعہ کو ایم کیو ایم نے اپنے قائد کی صحت یابی کے لیے یوم دعا کے طور پر منایا۔

اس خبر کے منظر عام پر آنے کے فوراً بعد شہر میں کاروباری زندگی معطل ہونا شروع ہوا اور دو روز تک تجارتی مراکز، بازار، تعلیمی ادارے اور پٹرول پمپس بند رہے۔

جمعرات کی صبح معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہی ہوئے تھے کہ کراچی کے بعض علاقوں سے فائرنگ اور دکانوں کو زبردستی بند کروانے کی اطلاعات کے بعد حالات ایک بار پھر کشیدہ ہوگئے۔

لیکن ایم کیو ایم کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بعض شر پسند اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور عوام ان سے خوفزدہ نہ ہوں۔ جمعہ کو ساحلی شہر میں کارروبار زندگی معمول کے مطابق جاری رہا۔
XS
SM
MD
LG