رسائی کے لنکس

سابق وزیراعظم گیلانی کا مغوی بیٹا افغانستان سے بازیاب


افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر نے بتایا کہ علی حیدر گیلانی کو منگل کو افغانستان کے صوبہ غزنی میں افغان اور امریکی سکیورٹی فورسز نے مشترکہ کارروائی کر کے بازیاب کروایا۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے مغوی بیٹے علی حیدر گیلانی کو افغانستان میں ایک کارروائی کر کے بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

علی حیدر گیلانی کو نو مئی 2013ء کو اُن کے آبائی شہر ملتان کے مضافات سے اُس وقت مسلح افراد نے اغواء کر لیا تھا جب وہ صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے انتخابی مہم میں مصروف تھے۔

تقریباً تین سال بعد اُن کی بازیابی عمل میں آئی۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے منگل کو ایک مختصر بیان میں بتایا کہ افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر محمد حنیف اتمر نے ٹیلی فون کر کے علی حیدر گیلانی کی بازیابی کی خبر پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کو دی۔

بیان کے مطابق افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر نے بتایا کہ علی حیدر گیلانی کو منگل کو افغان اور امریکی سکیورٹی فورسز نے مشترکہ کارروائی کر کے بازیاب کروایا۔

بیان کے مطابق ضروری طبی ٹیسٹ کے بعد علی حیدر گیلانی کو پاکستان منتقل کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں افغانستان کے سفیر حضرت عمر زخیلوال نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ القاعدہ سے منسلک گروپ کی قید سے علی حیدر گیلانی کو رہا کروایا گیا۔

افغان سفیر نے کہا ہے کہ علی حیدر گیلانی کو بالکل صحیح سلامت بازیاب کروایا اور اب جب ہم بات کر رہے ہیں اُنھیں کابل منتقل کیا گیا جہاں اُن کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔‘‘

سفیر حضرت عمر زخیلوال نے کہا کہ علی حیدر گیلانی تین سال تک انتہائی خطرناک افراد کی تحویل میں رہے اوراُن رہائی کے لیے کیے جانے والے آپریشن کے بعد سب سے بہترین اقدام اُن کی صحت کا خیال رکھنا ہے۔

’’سب سے اچھی چیز یہ ہے کہ بظاہر وہ تندرست دکھائی دیتے ہیں۔ ہماری اُمید ہے کہ اُن کے تمام طبی ٹیسٹ آج مکمل ہو جائیں گے اور بدھ کو وہ اپنے خاندان سے آ ملیں گے۔‘‘

افغانستان میں تعینات امریکی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ کارروائی صوبہ پکتیکا کے ضلع گیان میں کی گئی اور اس میں چار جنگجو مارے گئے۔

واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے ایک مقتول رہنما سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر کو تقریباً ساڑھے چار سال بعد رواں سال مارچ میں اغوا کاروں نے رہا کیا۔

شہباز تاثیر کو 2011ء میں لاہور سے اغوا کیا گیا تھا اور اغوا کاروں نے اُنھیں بظاہر تاوان کے بدلے آٹھ مارچ کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں رہا کر دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG