رسائی کے لنکس

’آل انڈیا ریڈیو‘ کی بلوچی سروس کی ویب سائیٹ کے اجرا کا فیصلہ


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

بھارت کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق بلوچی سروس کی ویب سائیٹ اور موبائل ایپ کے آغاز سے بلوچستان اور افغانستان کے علاوہ دیگر ممالک میں آباد بلوچی زبان سمجھنے والے اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، نشریات کو با آسانی سن سکیں گے۔

بھارت کے سرکاری نشریاتی ادارے ’پرسار بھارتی‘ کے مطابق آل انڈیا ریڈیو کی بلوچی زبانی کی نشریات کے لیے ایک نئی ملٹی میڈیا ویب سائٹ اور موبائل ایپ جمعہ سے متعارف کروائی جا رہی ہے۔

بھارت کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق بلوچی سروس کی ویب سائیٹ اور موبائل ایپ کے آغاز سے بلوچستان اور افغانستان کے علاوہ دیگر ممالک میں آباد بلوچی زبان سمجھنے والے اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، نشریات کو با آسانی سن سکیں گے۔

واضح رہے کہ ’آل انڈیا ریڈیو‘ کی بلوچی سروس کا آغاز 1974 میں ہوا تھا لیکن اب اس سروس کی ویب سائیٹ اور موبائل ایپ شروع کی جا رہی ہے تاکہ بلوچی زبان سمجھنے والوں کے لیے نشریات کا معیار بہتر بنایا جا سکے۔

پاکستان میں حالیہ ہفتوں میں ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں تواتر سے سامنے آتی رہی ہیں کہ شاید بھارت بلوچی زبان میں پہلی مرتبہ نشریات شروع کرنے جا رہا ہے۔

بلوچی سروس کی نئی ویب سائیٹ اور موبائل ایپ کے آغاز کے بارے میں پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدام کا مقصد بھارتی کشمیر کی صورت حال سے عالمی برداری کی توجہ ہٹانا ہے۔

نفیس ذکریا کا موقف تھا کہ بھارتی میڈیا پاکستان کے بارے میں مبینہ طور پر ’غلط تاثر‘ کو اجاگر کرتا رہا ہے اور اُن کے بقول ’’اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔‘‘

واضح رہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ احتجاج اور کشیدگی میں درجنوں افراد کی ہلاکت کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں ایک مرتبہ پھر تناؤ دیکھا گیا ہے۔

پاکستان نے بھارتی کشمیر میں حالیہ ہلاکتوں کے معاملے کو عالمی سطح پر اٹھایا ہے اور کئی ممالک میں اپنے وفود بھی بھیجے ہیں۔

بھارت اپنے زیر انتظام کشمیر کی صورت حال کے بارے میں پاکستانی تشویش کو مسترد کرتے ہوئے، اسے اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت تصور کرتا ہے۔

جب کہ پاکستان کی طرف سے کشمیر میں کشیدگی کے معاملے اٹھانے کے بعد، بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ملک کے یوم آزادی کے موقع پر کی گئی تقریر میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا۔

وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ بلوچستان، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں بسنے والوں کے حقوق کی آواز بلند کرنے پر وہاں کے لوگوں نے اُن کا شکریہ ادا کیا۔

اُدھر پاکستان کا یہ الزام رہا ہے کہ بھارت صوبہ بلوچستان اور ملک کے دیگر علاقوں میں بدامنی کو ہوا دیتا ہے، رواں سال مارچ میں پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ایک بھارتی شہری کلبھوشن یادیو کوگرفتار کیا ہے جو بھارتی انٹیلی جنس ادارے ’را‘ کا ایجنٹ ہے اور پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان اور کراچی میں ملک تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھا۔

پاکستانی حکام نے ذرائع ابلاغ کو کلبھوشن کے اعترافی بیان پر مشتمل ایک وڈیو بھی دکھائی تھی جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اس نے یہ ویڈیو رضاکارانہ طور پر ریکارڈ کروائی ہے۔

بھارت نے کلبھوشن یادو کی گرفتاری کے بعد کہا تھا کہ وہ بھارت کا شہری اور بحریہ کا سابق ملازم تو ہے مگر اس کا ’را‘ سے کوئی تعلق نہیں۔

بھارت کی طرف سے کلبھوشن یادیو تک سفارتی رسائی کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا لیکن فی الحال پاکستان نے کلبھوشن یادیو تک سفارتی رسائی نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG