رسائی کے لنکس

صدر زرداری کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے مقدمات کے حوالے سے موصولہ خط میں استثنیٰ سے متعلق بین الاقوامی قوانین کا حوالہ دیا گیا ہے: میڈیا رپورٹس

میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاکستانی وزارت قانون کو موصول ہونے والے ایک خط میں سوئس حکام نے اس بات سے معذوری کا اظہار کیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف بدعنوانی کے مبینہ مقدمات دوبارہ نہیں کھولے جاسکتے۔

اِس خط میں مروجہ بین الاقوامی استثنیٰ کا حوالہ دیا گیا ہے۔

اِس سلسلے میں، میڈیا رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائک نے سوئس حکام کی جانب سے بھجوائے گئے خط کی تصدیق کردی ہے۔

یہ مقدمے نوے کی دہائی میں نواز شریف حکومت کے دور میں دائر کیے گئے تھے، جِن میں الزام لگایا گیا تھا کہ آصف علی زرداری نےسوئس کمپنیوں سے ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر کمیشن لیا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ سوئس خط میں استثنیٰ کا حوالہ دیتےہوئے کہا گیا ہے کہ جب تک آصف علی زرداری صدر کے عہدے پر فائز ہیں، اِن مقدمات پر مزید قانونی چارہ جوئی ممکن نہیں۔

مزید معلوم ہوا ہے کہ یہ باضابطہ خط پاکستانی عدالت عظمیٰ کے حکم پر لکھے گئے وفاقی حکومت کے اُس خط کا جواب ہے، جِس میں سوئس حکام سے یہ استدعا کی گئی تھی کہ بدعنوانی کے اُن مقدمات کو دوبارہ کھولا جائے۔ اس حوالے سے ماضی میں سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم نےسوئس عہدے داروں کو آصف علی زرداری کے مقدمات بند کرانے کے لیے خط و کتابت کی تھی۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے ’این آر او کیس‘ میں مبینہ بدعنوانی کے مقدمات دوبارہ کھلوانے کے لیے حکومت سے واضح طور پر کہا تھا کہ سوئس حکام کو خط لکھا جائے، جس کی ابتدائی طور پر عدم تعمیل کی پاداش میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو برخواست کرنے کا حکم صادر کیا گیا تھا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG