رسائی کے لنکس

مرغبانی کے ساتھ مگر مچھ پالنے کا انوکھا کاروبار


مارک گلاس کے فارم پر پلنے والے مگرمچھوں کے بچے

مارک گلاس کے فارم پر پلنے والے مگرمچھوں کے بچے

مارک کے پاس 'الیگیٹر' نسل کے اندازاً ایک لاکھ مگر مچھ پَل رہے ہیں"۔

جارجیا زرعی پیداوار کی کئی جناس اور انواع و اقسام کے پھلوں کے باعث مشہور ہے۔ لیکن یہاں کے آڑو اور اخروٹ کے ساتھ ساتھ مرغی کے چوزے بھی مشہور ہیں۔

یہاں کے کمیلا نامی قصبے میں ایک مقامی فارم پر غیر معمولی نوعیت کی ایک چیز پل رہی ہے، جس کی یورپ کی اعلیٰ درجے کی فیشن کی صنعت میں بڑی مانگ ہے۔

وائس آف امریکہ کے رپورٹر فلپ گریٹسر نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ کمیلا، ریاستِ جارجیا کے دارالحکومت اٹلانٹا سے چار گھنٹے کی دوری پر واقع ہے۔

قصبے کے مضافات میں کچھ دوری پر ایک سڑک ہے جسے ’الیگیٹر لین‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، جہاں غلے کے سفید رنگ کے ایک منزلہ گوداموں کی ایک قطار ہے۔

یہیں کے ایک شخص مارک گلاس ہیں۔ جن کے جارجیا کے شہر کمیلا میں دو فارم ہیں، ایک مگرمچھ کا اور دوسرا مرغیوں کا۔

مارک کے بقول، "ہمارے پاس 'الیگیٹر' نسل کے اندازاً ایک لاکھ مگر مچھ پَل رہے ہیں"۔

جی ہاں۔ ایک لاکھ الیگیٹر، جو بڑی قامت والے اور خونخوار ہیں، اور امریکہ کے جنوبی علاقےکی دلدلی زمین اور نہروں میں پائے جاتے ہیں۔ مارک گلاس امریکہ میں الیگیٹر کے سب سے بڑے فارم کے مالک ہیں۔

اُنھوں نے اپنے پیشے کا آغاز ایک الیگیٹر فارمر کے طور پر نہیں کیا تھا۔ وہ مرغیاں پال رہے تھے اور اُنھیں خیال آیا کہ مرغبانی کرنے والوں کا بڑا مسئلہ مری ہوئی مرغیوں کو ٹھکانے لگانا ہوتا ہے اور اس سلسلے میں مگر مچھ معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

عام طور پر، مارکیٹ پہنچنے سے قبل تقریباً پانچ فی صد مرغیاں مر جاتی ہیں۔ مرغبانی کرنے والے زیادہ تر لوگ اُنھیں یا تو دفن کردیتے ہیں یا نذرِ آتش کرتے ہیں۔ گلاس اُنھیں جلایا کرتے تھے لیکن مٹی کا تیل مہنگے سے مہنگا ہوتا جارہا تھا۔

اُن کے بقول، "اِس لیے ہم نےایک تجربہ یہ کیا کہ پولٹری فارم سے مردہ پرندے الیگیٹر فارم لے جانا شروع کیے۔ مجھے نہیں معلوم کہ جب ہم نے یہ کام شروع کیا اُس سے پہلے کسی اور کا ذہن بھی ادھر گیا تھا کہ نہیں"۔

اُنھوں نے مگرمچھ کے تقریباً 750بچے خریدے اور باڑ لگے اپنے باہر کے تالاب میں چھوڑ دیے، پھر محسوس کیا کہ یہ درست منصوبہ نہیں ہے۔

وہ بتاتے ہیں، "ہم نے لوہے کی باڑ کو مزید محفوظ بنا کر مرغیوں کو ایک طرف کیا، اور اس بات کو یقینی بنایا کہ سارے کے سارے الیگیٹرز کو تالاب کی طرف مقید کر دیں۔ شاید اکا دکا ادھر ادھر ہوگئے"۔

جوں جوں مگر مچھ بڑے ہوتے گئے، گلاس نے اپنے منصوبے پر پھر نظر ڈالی۔ الیگیٹرز کو پالنا ایک وقت طلب کام تھا اور اُنھیں مرنے والی مرغیوں سے زیادہ غذا کی ضرورت پڑتی تھی۔ اس کے باعث اُنھوں نے کھال اور گوشت کی پیداوار کی غرض سے مگر مچھ کی تجارتی سطح پر پیداوار شروع کی۔

بند ماحول میں مگر مچھ بچے نہیں دیتے۔ اس لیے مارک گلاس ہر سال گرمیوں کے موسم کے دوران قریبی ریاستوں کے جنگلوں سےالیگیٹر کے انڈے اکٹھے کرواتے ہیں۔ کبھی الیگیٹر نسل کے وجود کو خطرہ لاحق تھا، لیکن اب اس کی نسل خوب بڑھی ہے، اس لیے اس کے انڈے جمع کرنا غیر قانونی نہیں۔

الیگیٹر موسم گرما میں انڈے دیتا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ اُ ن کے فارم پر جب الیگیٹر ساڑھے تین سے چھ فٹ لمبے ہوجاتے ہیں تب وہ اُنھیں فروخت کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

ایک الیگیٹر سال بھر میں جاکر اتنا بڑا ہوتا ہے کہ اُس کی کھال سے کلائی والی گھڑی باندھنے کے چموٹے بنائے جاسکیں۔ ہینڈ بیگ کے لیے دو میٹر کے تین الیگیٹر درکار ہوں گے، جس کے لیے الیگیٹر کا تین برس کا ہونا ضروری ہے۔

جب انھیں ذبح کیا جاتا ہے اُن کی کھال کو فارم پر ہی الگ کرکے خشک کیا جاتا ہے، جس کے بعد اُنھیں یورپ اور ایشیا کے دباغ خانوں کو بھیجا جاتا ہے جہاں اُن پر رنگ اور پالش کرکے کاٹ کر پر تعیش مصنوعات بنائی جاتی ہیں۔

تالاب کے گدلے کناروں پر پلنے والے اِن رینگنے والے جانوروں کو دیکھ کر یہ گمان نہیں ہوتا کہ کبھی یہ دنیا کے خوبصورت افراد و خواتین کے ہاتھوں کی زینت بنیں گے۔
XS
SM
MD
LG