رسائی کے لنکس

القاعدہ سربراہ کا افغان طالبان کے امیر سے وفاداری کا اعلان


القاعدہ کے سربراہ ایمن الزواہری (فائل فوٹو)

القاعدہ کے سربراہ ایمن الزواہری (فائل فوٹو)

الزواہری کی زیر قیادت القاعدہ کی سرگرمیاں ماضی کی نسبت محدود ہوئی ہیں اور اسے ایک اور شدت پسند گروپ داعش کے ہاتھوں بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

القاعدہ کے سربراہ ایمن الزواہری نے افغان طالبان کے نئے سربراہ سے وفاداری کا اعلان کیا ہے۔

ملا ہیبت اللہ کو گزشتہ ماہ طالبان کے امیر ملا اختر منصور کی افغان سرحد کے قریب ایک پاکستانی علاقے میں امریکی ڈرون حملے سے ہلاکت کے بعد نیا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

انٹرنیٹ پر ایک آڈیو پیغام میں الزواہری کا کہنا تھا کہ "میں جہاد کی تنظیم القاعدہ کے سربراہ کے طور پر ایک بار پھر اپنی وفاداری کا عزم کرتا ہوں، اسامہ (بن لادن) کی اس سوچ کے مطابق کہ تمام مسلمان قوم کو اسلامی امارت (افغانستان) کی حمایت کے لیے مدعو کیا جائے۔"

مئی 2011ء میں پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں امریکی اسپیشل فورسز کی ایک خفیہ کارروائی میں اسامہ بن لادن کی موت کے بعد ایمن الزواہری القاعدہ کے نئے سربراہ مقرر ہوئے تھے۔

ملا ہبت اللہ

ملا ہبت اللہ

افغان طالبان نے 1996ء سے 2001ء تک افغانستان پر اپنا اقتدار قائم کرتے ہوئے اسے اسلامی امارت افغانستان قرار دیا تھا۔ امریکہ کی زیرقیادت اتحادی افواج کی افغانستان میں مداخلت کے بعد سے عسکریت پسند دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے کارروائیاں کرتے آرہے ہیں۔

الزواہری کے جاری کردہ 14 منٹ کے ریکارڈ شدہ آڈیو پیغام کے مصدقہ ہونے کی آزاد ذرائع سے تصدیق تاحال نہیں ہو سکی ہے۔

الزواہری کی زیر قیادت القاعدہ کی سرگرمیاں ماضی کی نسبت محدود ہوئی ہیں اور اسے ایک اور شدت پسند گروپ داعش کے ہاتھوں بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

بہت سے افغان طالبان بھی اپنی تحریک سے منحرف ہو کر داعش کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اس گروپ میں شامل ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG