رسائی کے لنکس

القاعدہ یمن میں بدامنی کا فائدہ اٹھا رہی ہے: امریکی وزیر دفاع


وزیر دفاع ایشٹن کارٹر

وزیر دفاع ایشٹن کارٹر

منگل کو ایک امریکی عہدیدار نے کہا تھا کہ امریکہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف لڑائی میں مصروف سعودی اتحاد کو اسلحے کی فراہمی تیز کر رہا ہے

امریکہ کے وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے کہا ہے کہ یمن میں القاعدہ کی شاخ وہاں حوثی باغیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان جاری لڑائی سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔

بدھ کو جاپان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کارٹر کا کہنا تھا کہ یمن میں بحران نے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے خلاف امریکی کوششوں کو مزید مشکل کر دیا ہے اور ان کے بقول ایسے آپریشن وہاں کرنا آسان ہوتا ہے جہاں کوئی مستحکم حکومت ہو۔

"جزیرہ نما عرب کی القاعدہ کی طرف سے مغرب بشمول امریکہ کو طویل عرصے سے سنگین خطرہ لاحق ہے جس سے ہم لڑتے رہیں گے۔ ہم وہاں کی صورتحال کے مطابق اپنی حکمت عملی تبدیل کریں گے۔ ہمیں امید ہے کہ یمن میں امن قائم ہوگا۔"

کارٹر کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ حوثی باغیوں کے خلاف لڑائی میں مصروف اتحاد کی مدد کے لیے سعودی عرب کو انٹیلی جنس، نگرانی اور دیگر ضروری معلومات فراہم کر رہا ہے۔

قبل ازیں منگل کو ایک امریکی عہدیدار نے کہا تھا کہ امریکہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف لڑائی میں مصروف سعودی اتحاد کو اسلحے کی فراہمی تیز کر رہا ہے۔

معاون امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ ان کے ملک نے "سعودی آپریشن سینٹر میں مشترکہ منصوبہ بندی اور تعاون کا سیل بھی قائم کیا ہے"، جو کہ ایران کے حمایت یافتہ شیعہ حوثی باغیوں کو پسپا کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

بین الاقوامی خبررساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق بلنکن نے یہ بات سعودی دارالحکومت ریاض میں صحافیوں سے گفتگو میں کہی۔

"سعودی عرب حوثی اور ان کے اتحادیوں کے لیے ایک سخت پیغام دے رہا ہے کہ وہ یمن پر طاقت کے بل بوتے پر قبضہ نہیں کر سکتے۔۔۔ ان کوششوں کے سلسلے میں ہم نے اسلحے کی فراہمی کو تیز کر دیا ہے، ہم نے انٹیلی جنس کے تبادلے کو بڑھا دیا ہے اور ایک منصوبہ بندی سیل قائم کیا ہے۔"

پینٹاگون کے ترجمان کرنل اسٹیو وارنر نے منگل کو تصدیق کی تھی کہ امریکہ، یمن میں فضائی کارروائی کرنے والے اتحادیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کا جائزہ لے رہا ہے۔

"اس میں کچھ اسلحہ وہ ہے جس کا ہمارے اتحادیوں نے پہلے سے سودا کر رکھا تھا اور کچھ نئی ضروریات ہیں۔"

منگل کو سعودی عرب کی زیرقیادت اتحادی ممالک کے طیاروں نے جنوبی یمن میں ایک فوجی تنصیب پر بمباری کی جب کہ علاقے میں مقامی قبائل شیعہ حوثی باغیوں کے وفاداروں سے لڑائی میں بھی مصروف ہیں۔

ادھر یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ جزیرہ نما عرب میں سرگرم القاعدہ کے عسکریت پسندوں نے یمن کے صوبے حضر موت سے منسلک سرحدی گرزگاہ پر قبضہ کر لیا ہے۔

ترجمان پینٹاگون وارنر کا کہنا تھا کہ امریکہ ان اطلاعات کا "بغور جائزہ" لے رہا ہے۔ "امریکہ کو جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کی سرگرمیوں پر ہمیشہ سے تحفظات رہے ہیں، لیکن ہم یمن میں یک طرفہ طور پر انسداد دہشت گردی کی کارروائی کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔"

XS
SM
MD
LG