رسائی کے لنکس

القاعدہ کا اہم رہنما کوئٹہ سے گرفتار

  • یاسر منصوری

القاعدہ کا اہم رہنما کوئٹہ سے گرفتار

القاعدہ کا اہم رہنما کوئٹہ سے گرفتار

القاعدہ کا ایک اعلیٰ رہنما یونس الموریطانی

القاعدہ کا ایک اعلیٰ رہنما یونس الموریطانی

پاکستان نے کہا ہے کہ اس کے اعلیٰ ترین سراغ رساں ادارے نے القاعدہ کے ایک اہم رہنما کو گرفتار کیا ہے جو عالمی سطح پر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ سازی اور ان پر عمل درآمد کی نگرانی پر معمور تھا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ یونس الموریطانی کو آئی ایس آئی اور نیم فوجی سکیورٹی فورس فرنٹیئر کور نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر صوبہ بلوچستان کے داراحکومت کوئٹہ کے مضافات میں ایک مشترکہ آپریشن کرکے گرفتار کیا۔

بیان کے مطابق القاعدہ کے اس کلیدی رہنما کو اسامہ بن لادن نے ذاتی طور پر امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا میں اقتصادی اہمیت کے حامل اہداف کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ الموریطانی گیس، تیل اور بجلی پیدا کرنے والی تنصیبات کے علاوہ بارود سے لدی تیز رفتار کشتیوں سے بین الاقومی سمندری پانی میں موجود بحری جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

الموریطانی کے ساتھ گرفتار کیے گئے القاعدہ کے دیگر دو اہم کارکنوں کے نام عبدال غفار الشامی اور مِسارا الشامی بتائے گئے ہیں۔

پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ ”الموریطانی اور اس کے دو اہم ساتھیوں کی گرفتاری القاعدہ پر ایک اور کاری ضرب ہے اور ان گرفتاریوں کے لیے کیا گیا آپریشن امریکہ کی تکنیکی معاونت سے تیار کیا گیا۔“

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں دونوں ملکوں کی سلامتی کے استحکام کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں۔ مزید برآں دونوں ملکوں کے جاسوسی کے اداروں کے مابین تعاون کی بدولت نا صرف پاکستان اور امریکہ بلکہ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی دہشت گردی کے بڑے حملوں کو ناکام بنایا گیا۔

رواں سال مئی میں اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز کے خفیہ آپریشن کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ پایا جا رہا ہے لیکن ان کے خفیہ اداروں کے درمیان قریبی تعاون سے متعلق تازہ ترین بیان سے بظاہر تاثر ملتا ہے کہ اس کشیدگی میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد امریکہ نے القاعدہ کی قیادت کے خاتمے کی کوششوں میں اضافہ کر دیا ہے اور امریکی حکام کے بقول 22 اگست کو افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقے میں ہونے والے ایک ڈرون حملے میں القاعدہ کا نائب سربراہ عطیہ عبدالرحمٰن بھی مارا گیا تھا۔ پاکستانی حکام نے تاحال ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی ہے۔

مئی میں پاکستان نے کراچی سے القاعدہ کے ایک اہم کارکن محمد علی قاسم یعقوب عرف ابوصہیب المکی کی گرفتاری کا بھی اعلان کیا تھا جو براہ راست القاعدہ کی قیادت میں پاک افغان سرحدی علاقوں میں کام کر رہا تھا۔

XS
SM
MD
LG