رسائی کے لنکس

شدت پسند گروپ نے کہا ہے کہ دارالحکومت صنعا میں وزارت دفاع کی عمارتوں کے کمپاؤنڈ کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیوں کہ وہاں ’’ڈرون کا کنٹرول روم اور امریکی ماہرین تھے۔‘‘

القاعدہ نے یمن میں وزارت دفاع سے ملحقہ ایک فوجی اسپتال پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ جمعرات کو اس حملے میں 52 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سماجی رابطے کی ایک ویب سائیٹ ’ٹوئٹر‘ پر جاری پیغام میں شدت پسند گروپ نے کہا ہے کہ دارالحکومت صنعا میں وزارت دفاع کی عمارتوں کے کمپاؤنڈ کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیوں کہ وہاں ’’ڈرون کا کنٹرول روم اور امریکی ماہرین تھے۔‘‘

جمعرات کو کار بم دھماکے کے بعد مسلح افراد نے وہاں حملہ کیا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ خودکش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی کمپاؤنڈ کے ایک دروازے سے ٹکرائی جب کہ خودکار ہتھیاروں سے لیس دیگر حملہ آور دوسری جانب سے داخلہ ہوئے۔

گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے میں یمن میں یہ مہلک ترین حملہ تھا، ہلاک ہونے والوں میں عام شہری، فوجی اور اسپتال میں کام کرنے والے اہلکار بھی شامل تھے۔

یمن کے خبر رساں ادارے کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں جرمنی اور ویتنام کے دو دو ڈاکٹروں کے علاوہ یمن کا ایک ڈاکٹر جب کہ فلپائن سے تعلق رکھنے والی دو خواتین نرسوں کے علاوہ بھارت کی ایک خاتون نرس بھی شامل ہے۔
XS
SM
MD
LG