رسائی کے لنکس

القاعدہ نے اپنے کمانڈر مختار کو ’فارغ‘ کر دیا تھا


مختار بلمختار (فائل فوٹو)

مختار بلمختار (فائل فوٹو)

مختار بلمختار القاعدہ کی مرکزی قیادت سے براہ راست رابطے میں تھا لیکن اس نے اپنا ایک علیحدہ دہشت گرد گروپ تشکیل دے رکھا تھا۔

القاعدہ کی شمالی افریقی شاخ کے رہنماؤں نے بدنام زمانہ دہشت گرد مختار بلمختار کو فارغ کردیا تھا۔

امریکی خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کو ملنے والے ایک خط میں القاعدہ کے ’بڑوں‘ نے یہ شکایت کی ہے کہ مختار کبھی بھی فون کال کا جواب نہیں دیتا اور وہ اخراجات کی تفصیل فراہم کرنے میں بھی ناکام رہا۔

عرف عام میں ’مسٹر مارلبورو‘ کے نام سے پکارا جانے والا یہ شدت پسند القاعدہ کی مرکزی قیادت سے براہ راست رابطے میں تھا لیکن اس نے اپنا ایک علیحدہ دہشت گرد گروپ تشکیل دے رکھا تھا۔

اس نے دو بہت ہی مہلک کارروائیاں کیں جن میں 101 افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں ایک رواں سال جنوری میں الجزائر میں تیل کی تنصیب پر حملہ تھا جو کہ تاریخ میں سب سے زیادہ افراد کو یرغمال بنانے کا ایک انوکھا واقعہ تھا۔ دوسرا واقعہ گزشتہ ہفتے نائجر میں یکے بعد دیگر ایک فوجی اڈے اور ایک یورینیم کی ایک فرانسیسی کان میں بم دھماکوں کا تھا۔

دس صفحات پر مشتمل اس خط پر تین اکتوبر کی تاریخ ہے اور اے پی کو یہ مالی میں القاعدہ کے جنگجوؤں کے زیر استعمال ایک عمارت سے ملا۔

گوکہ حالیہ برسوں میں یہ اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں کہ مختار کو القاعدہ نے مبینہ طور پر تنظیم سے نکال دیا ہے لیکن ٹمبکٹو سے ملنے والے اس خط سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ گزشتہ سال تک القاعدہ کا وفادار رہا ہے۔

اس خط میں 14 رکنی کونسل کے دستخط ہیں اور مختار کو القاعدہ کے لیے ایک ’ناسور‘ قرار دیتے ہوئے تنظیم سے مستعفی ہوکر اپنا گروپ بنانے کے فیصلے پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔

خط میں تحریر ہے کہ’’تمہارا خط ۔۔۔ غیبت، مغلظات اور غط بیانی پر مبنی ہے، ہم ماضی میں اس جھگڑے سے یہ سوچ کر دور رہے کہ قانون شکن کو تحمل سے سمجھایا جاسکتا ہے ۔۔۔ لیکن یہ زخم رستا رہا اور درحقیقت اس کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا یہاں تک کہ تمہارے موصول ہونے والے آخری خط نے اس زخم کے بھرنے کی امیدیں توڑ دیں۔‘‘

چاڈ کی فوج نے رواں سال مارچ میں ایک کارروائی کے دوران مختار کی ہلاکت کی خبر دی تھی۔
XS
SM
MD
LG