رسائی کے لنکس

کئی دنوں سے الاقاعدہ کی ویب سائٹ Shumukh al-Islam اور اس کے چیٹ رومز اور فورم انٹرنیٹ پر نظر نہیں آ رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ایک سوچے سمجھے اور منظم سائبر حملے کا نتیجہ ہے۔ رپورٹس میں قیاس آرائی کی گئی ہے کہ یہ کام سرکاری انٹیلی جنس ایجنسیوں نے کیا ہے ۔ لیکن ماضی میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کو جہادیوں کی ویب سائٹس کو ناکارہ بنانے میں تامل رہا ہے کیوں کہ ان کا خیال ہے کہ ان سے قیمتی معلومات حاصل ہوتی رہی ہیں۔

امریکہ کے انٹیلی جنس اور پالیسی سازی کے حلقوں میں دہشت گرد گروپوں کی ویب سائٹس پر حملے کرنے کی افادیت پر بحث ہو رہی ہے ۔ نیشنل سکیورٹی پالیسی اور انفارمیشن آپریشن کی تجزیہ کار کیتھرین تھیوہارے کہتی ہیں کہ پالیسی سازوں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ ویب سائٹس کو ناکارہ بنانے کے فائدے کتنے ہیں اور اس کام پر لاگت کتنی آتی ہے۔

وہ کہتی ہیں’’کسی خاص ویب سائٹ کو ناکارہ بنانے کے فائدے کتنے ہیں اور نقصان کتنے ہیں کیوں کہ بعض ویب سائٹس نگرانی اور انٹیلی جنس کی معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، اگر کسی سائٹ کو اپنی کارروائیوں میں نظم و ضبط پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تو اس کو بند کرنے سے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔‘‘

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ دہشت گرد گروپ انٹرنیٹ کو اپنے پراپیگنڈے کی تشہیر اور اپنے احکامات کی تقسیم کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جہادیوں کے چیٹ رومز دراصل سائبر اسپیس میں ان کے مل بیٹھنے کی جگہیں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بعض لوگ جنھوں نے دہشت گردی کی راہ اختیار کی، جیسے 2009ء میں فورڈ ہڈ کے قتلِ عام کا مبینہ ملزم، اس کے دل میں جوش و جذبہ انٹرنیٹ دیکھ کر ہی پیدا ہوا تھا۔ لیکن تھیوہارے کہتی ہیں کہ ان ویب سائٹس سے انسدادِ دہشت گردی کے افسروں کو انٹیلی جنس بھی مل سکتی ہے۔

’’ آپ کو ان کے رجحانات کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ آپ ان ویب سائٹ سے بعض لوگوں کی شناخت کا پتہ چلا سکتے ہیں، اور یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ کس قسم کی کارروائیوں کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔‘‘

انٹیلی جنس کے مورخ میتھیو ایڈ کہتے ہیں کہ 2007ء میں بُش انتظامیہ نے سوچا کہ طالبان انٹرنیٹ پر مؤثر پراپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ صدر چاہتے تھےکہ اس گروپ کی ویب سائٹ کو ناکارہ بنا دیا جائے۔ لیکن نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے اور انٹیلی جنس کمیونٹی نے اس تجویز کی سخت مزاحمت کی۔

ایڈ کہتے ہیں’’انٹیلی جنس کمیونٹی نے یہ موقف اختیار کیا کہ آپ ان سائٹس کو بند نہیں کر سکتے۔ ہم ان کو باقاعدگی سے دیکھتے ہیں اور ان سے طالبان کی صلاحیتوں اور ان کے عزائم کے بارے میں جو معلومات حاصل کرتے ہیں وہ اس فائدے سے کہیں زیادہ ہے جو انہیں بند کرنے سے ممکنہ طور پر حاصل ہو گا۔ اس نکتے پر انٹیلی جنس کمیونٹی کا موقف تسلیم کر لیا گیا۔‘‘

لیکن بعض دوسرے تجزیہ کار اس خیال سے متفق نہیں۔ کیلے فورنیا کے یو ایس نیول پوسٹ گریجویٹ اسکول میں دفاعی تجزیے کے پروفیسر جان ارکوِلہ کہتے ہیں کہ جہادیوں کی ویب سائٹس سے جو انٹیلی جنس ملی ہے وہ خاصی غیر اہم تھی۔ ان کے خیال میں جہادیوں کی ویب سائٹس پر اچانک حملوں سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اس سے القاعدہ اور اس کے ہم خیال گروپوں میں غیر یقینی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے ۔

’’ میں دشمن سے یہ احساس چھیننا چاہتا ہوں کہ سائبر اسپیس میں انہیں مکمل پناہ حاصل ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ پریشان رہیں اور سوچتے رہیں کہ ہم انہیں دیکھ رہے ہیں یا سن رہے ہیں۔ اور دوسرے موقعوں پر میں چاہتا ہوں کہ وہ یہ سمجھیں کہ وہ بحفاظت آپس میں ایک دوسرے سے بات چیت کر رہے ہیں جب کہ وہ ایسا نہیں کر رہے ہوں گے ۔ ہمیں ان کے دماغوں میں شک و شبہ پیدا کرنا چاہیئے۔ ہم نے سائبر اسپیس میں بہت زیادہ کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔‘‘

اگر القاعدہ کی ویب سائٹس امریکہ کے سائبر حملوں کی وجہ سے ناکارہ ہوئی ہیں، تو خیال یہ ہے کہ یہ کام امریکہ کی انتہائی خفیہ نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے کیا ہو گا۔

لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ باہر کا کوئی گروپ بھی ذمہ دار ہو سکتا ہے۔ میتھیو ایڈ کہتے ہیں کہ ویب سائٹس کو ناکارہ بنانے کی ٹیکنالوجی کوئی اتنی زیادہ مشکل نہیں ہے۔

’’ کہا یہ جا رہا ہے کہ یہ امریکی حکومت کی کارروائی ہے کیوں کہ یہ بڑا جامع کام ہے، یعنی تمام سائٹس بیک وقت ناکارہ بنائی گئی ہیں اور بظاہر یہ کام بڑے مؤثر طریقے سے کیا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس کسی نے یہ کام کیا ہے اس کے پاس ٹیکنیکل وسائل اور معلومات کی کمی نہیں۔ لیکن ہم ایسے دور میں رہ رہے ہیں جب "Anonymous" جیسے hacker گروپوں کے پاس بالکل وہی صلاحیتیں موجود ہیں جو ناسا کے ہیڈ کوارٹرز میں فورٹ میاڈ میں ہیں۔‘‘

لیکن سائبر اسپیس میں ان حملوں کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے، اور امریکی انٹیلی جنس کے عہدے دار اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG