رسائی کے لنکس

امریکی حکام نے بتایا تھا کہ دہشت گردی کے مبینہ منصوبے کا ابتدائی مراحل میں سراغ لگا لیا گیا تھا اور اس سے اب کسی امریکی فضائی کمپنی کو خطرہ نہیں ہے

امریکی حکام نے کہا ہے کہ عالمی دہشت گرد تنظیم 'القاعدہ' کی جانب سے ممکنہ خود کش حملے کا خطرہ ٹل گیا ہے۔

صدر براک اوباما کے مشیر برائے انسدادِ دہشت گردی جان برینن نے منگل کو امریکی ٹی وی 'اے بی سی' سے گفتگو کرتے ہوئے اس اطلاع کی تصدیق کی ہے کہ امریکی شہریوں کو مبینہ خود کش حملہ آور سے اب کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی حکام نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ القاعدہ کی یمنی شاخ امریکہ آنے والی کسی پرواز کو ایسے خود کش حملہ آور کے ذریعے نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جس نے اپنے زیرِ جامہ میں بارودی مواد چھپا رکھا ہوگا۔

امریکی حکام نے بتایا تھا کہ دہشت گردی کے مبینہ منصوبے کا ابتدائی مراحل میں سراغ لگا لیا گیا تھا اور اس سے اب کسی امریکی فضائی کمپنی کو خطرہ نہیں ہے۔

تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ آیا حکام اس مبینہ حملہ آور کا سراغ لگا پائے ہیں یا نہیں۔

امریکی ماہرین کے بقول ممکنہ خود کش حملے میں جس تیکنیک کا استعمال کیا جانا تھا وہ 2009ء میں کرسمس کے موقع پر ایمسٹرڈم سے امریکی شہر ڈیٹرائٹ جانے والے طیارے کو تباہ کرنے کی ناکام کوشش میں بھی استعمال کی جاچکی ہے۔

مذکورہ پرواز پر سوار ایک نائجیرین نوجوان نے اپنے زیرِ جامہ میں چھپائے گئے بم کو پھاڑنے کی کوشش کی تھی جس میں ناکامی پر اسے حراست میں لے لیا گیا تھا۔

امریکی حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ممکنہ حملے میں استعمال کی جانے والی ڈیوائس بھی القاعدہ کے سعودی نژاد بم سازابراہیم حسن العسیری کی تخلیق ہوسکتی ہے جسے 2009ء کے حملے میں استعمال کیے جانے والے بم کا تخلیق کار قرار دیا جاتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق العسیری کا تعلق القاعدہ کی یمنی شاخ سے ہے جو 'القاعدہ ان عریبین پینی سولا' کے نام سے معروف ہے۔

گزشتہ روز وہائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سیکیورٹی اداروں نے صدر اوباما کو اپریل میں مبینہ منصوبے سے آگاہ کیا تھا جس کے بعد سے انہیں اس پر ہونے والی پیش رفت سے مسلسل مطلع کیا جاتا رہا۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ صدر اوباما کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ مبینہ سازش سے امریکی عوام کی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG